Facebook Instagram Whatsapp Youtube Envelope
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Menu
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Change A Life
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Uncategorized

دانتوں کے علاج میں غفلت اور مالی معاوضے کا شرعی حکم

  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com
  • No Responses
  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com

سوال:

موضوع: دانتوں کے علاج میں غفلت (Medical Negligence) اور مالی معاوضے کا شرعی حکم
سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے کہ آپ خیریت اور ایمان کی بہترین حالت میں ہوں گی۔
میں شرعی رہنمائی کی طالب ہوں۔ ایک دانتوں کے ڈاکٹر (Dentist) کی غلطی کے باعث میرے چار دانت ضائع ہوگئے۔ اب میں سوچ رہی ہوں کہ اس نقصان اور تکلیف کی تلافی کے لیے میں قانونی طور پر مالی معاوضہ (compensation) کا دعویٰ کروں۔
برائے کرم فقہِ حنفی کی روشنی میں یہ بتائیں کہ کیا ایسی صورت میں مالی معاوضہ لینا (یعنی ہرجانے کا دعویٰ کرنا) اسلام میں جائز (حلال) ہے یا نہیں؟
جزاکم اللہ خیراً
اللہ تعالیٰ آپ کو امت کی خدمت کا بہترین اجر عطا فرمائے۔


جواب:

بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ

آپ کے سوال میں دانتوں کے ڈاکٹر کی غفلت سے چار دانتوں کے ضائع ہونے پر مالی معاوضہ لینے کے بارے میں شرعی رہنمائی طلب کی گئی ہے۔ فقہ حنفی میں اس مسئلے کی تفصیل درج ذیل ہے۔

طبی غفلت (Medical Negligence) کا شرعی حکم

اسلام میں کسی بھی پیشے میں غفلت یا لاپرواہی کی وجہ سے دوسرے کو نقصان پہنچانا ناجائز اور گناہ ہے۔ خاص طور پر طب جیسے حساس شعبے میں ڈاکٹر سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ پوری احتیاط اور مہارت سے کام لے۔ اگر ڈاکٹر کی غفلت ثابت ہو جائے تو وہ شرعاً ذمہ دار ٹھہرتا ہے۔

مالی معاوضہ (Compensation) کا جواز

فقہ حنفی میں کسی بھی قسم کے نقصان کے بدلے مالی معاوضہ لینا جائز ہے، بشرطیکہ نقصان کا تعلق کسی جائز چیز سے ہو اور معاوضہ حد سے تجاوز نہ کرے۔ دانتوں کا ضائع ہونا ایک حقیقی نقصان ہے، جس کی تلافی کے لیے آپ معاوضہ لے سکتی ہیں۔

شرائط

  • غفلت یا لاپرواہی ثابت ہو۔
  • نقصان کا تعلق براہ راست ڈاکٹر کے عمل سے ہو۔
  • معاوضہ معقول ہو، نہ بہت زیادہ اور نہ بہت کم۔

قانونی چارہ جوئی کا حکم

اگر ڈاکٹر اپنی غلطی تسلیم نہ کرے یا معاوضہ دینے سے انکار کرے تو آپ قانونی طور پر دعویٰ کر سکتی ہیں۔ اسلامی تعلیمات میں عدالت کے ذریعے حق لینا جائز ہے، بشرطیکہ آپ جھوٹی قسم یا غلط بیانی سے بچیں۔

نتیجہ

لہٰذا، آپ کے لیے اس نقصان کے بدلے مالی معاوضہ لینا شرعاً جائز ہے۔ تاہم، بہتر یہ ہے کہ پہلے ڈاکٹر سے نرمی سے بات کریں اور معاملہ صلح سے حل کرنے کی کوشش کریں۔ اگر صلح نہ ہو تو قانونی راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔

واللہ اعلم بالصواب۔

حوالہ جات

  • الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الضمان، باب ضمان الغصب
  • فتاویٰ ہندیہ، کتاب الضمان، الفصل الثالث فی ضمان المتلفات
  • بدائع الصنائع، کتاب الغصب، فصل فی حکم الغصب

وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم

بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔

بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم

اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔

بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم

عورتوں کے باہمی جنسی تعلق کا حکم صرف قومِ لوط کے واقعے پر موقوف نہیں، بلکہ قرآن کے عمومی اصول سے واضح ہوتا ہے کہ جنسی تسکین کا حلال راستہ نکاح کے دائرے میں میاں بیوی کے درمیان ہے، اس کے علاوہ راستہ “حد سے تجاوز” ہے۔ سورۂ مؤمنون 23:5-7 میں اہلِ ایمان کی صفت بیان کی گئی کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، سوائے اپنی بیویوں کے؛ پھر فرمایا فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَ ذٰ لِكَ فَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ​ ۚ‏ ٧ کہ جو اس کے علاوہ راستہ چاہیں وہ حد سے بڑھنے والے ہیں۔ صحیح حدیث میں عورت کے عورت کے سامنے ستر کھولنے اور جسمانی قربت کے بارے میں بھی ممانعت آئی ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ عورت، عورت کی شرم گاہ نہ دیکھے، اور دو عورتیں ایک کپڑے کے نیچے نہ لیٹیں۔

عورت کے عورت سے جنسی تعلقات کا اسلامی حکم

قسم اور نذر کے احکام: نماز چھوڑنے پر روزوں کا کفارہ

قسم میں شرط یادداشت کا اعتبار اور کفارے کا حکم

Get In Touch

Newsletter

Subscription Form

Latest Posts

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔
بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔
بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم
اپریل 29, 2026
Read More »

Quick Menu

  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

Follow Us

Facebook Instagram Whatsapp Envelope Youtube

contact

  • deenalfurqan@gmail.com
  • +92309 26-88(992)

© Copyright deenalfarqan.com. All rights reserved.