Facebook Instagram Whatsapp Youtube Envelope
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Menu
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Change A Life
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Uncategorized

اپنے پیسوں سے میٹریل خرید کر کمپنی کو منافع پر بیچنا

  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com
  • No Responses
  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com

سوال:

السلام علیکم…. میں بلڈنگ کنسٹریکشن کے کام میں اپنے کزن کے پاس جاب کرتا ہوں، اس پیشے میں میٹیریل کی خریداری میرے ذمہ ہے…. میں میٹیریل منگوا کر دیتا ہوں اور اپنی کمپنی سے دوکاندار کو پیسے دلوا دیتا ہوں.

کیا میں اس طرح کر سکتا ہوں کہ وہ میٹیریل دوکاندار سے میں اپنے پیسوں سے خرید کر آگے کمپنی کو اپنا مناسب پرافٹ رکھ کر فروخت کر دوں… کیا ایسا کرنے سے جو کمائی ہو گی وہ حلال ہو گی یا سود /حرام ہو گی؟


جواب:

بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ

آپ کا سوال یہ ہے کہ کیا آپ بلڈنگ کنسٹرکشن کے کام میں اپنے کزن کی کمپنی کے لیے میٹریل خریدتے وقت اپنے ذاتی پیسوں سے خرید کر کمپنی کو منافع رکھ کر بیچ سکتے ہیں؟ اس کا جواب شرعی اصولوں کی روشنی میں یہ ہے:

جائز طریقہ کار

اگر آپ میٹریل کو پہلے خود خرید کر اس کی ملکیت حاصل کر لیں، پھر اسے کمپنی کو منافع پر بیچیں تو یہ جائز ہے۔ اس صورت میں آپ ایک آزاد بیچنے والے (تیسرے فریق) کی حیثیت سے کام کریں گے، نہ کہ ایجنٹ کی حیثیت سے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ:

  • آپ میٹریل کی قیمت اپنے ذاتی پیسوں سے ادا کریں اور اس پر قبضہ حاصل کریں۔
  • اس کے بعد کمپنی کو ایک متعین منافع (مثلاً 10% یا کوئی طے شدہ رقم) پر فروخت کریں۔
  • یہ لین دین نقد یا ادھار دونوں طرح جائز ہے، بشرطیکہ قیمت اور منافع طے شدہ ہو۔

ناجائز صورت

اگر آپ صرف کمپنی کے نمائندے (ایجنٹ) کے طور پر میٹریل خریدتے ہیں اور کمپنی کی طرف سے خریداری کرتے ہیں، تو پھر آپ اس پر اپنا منافع نہیں لگا سکتے۔ اس صورت میں آپ کو صرف اجرت (کمیشن) لینے کا حق ہے، جو پہلے سے طے ہو۔ اگر آپ بغیر اجازت منافع لگائیں گے تو یہ خیانت اور حرام کمائی ہوگی۔

خلاصہ

آپ اپنے پیسوں سے میٹریل خرید کر کمپنی کو منافع پر بیچ سکتے ہیں، یہ جائز ہے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ کمپنی کے ایجنٹ نہ ہوں بلکہ آزاد بیچنے والے ہوں۔ بہتر یہ ہے کہ کمپنی سے واضح معاہدہ کر لیں کہ آپ اپنے پیسوں سے خرید کر انہیں بیچیں گے، تاکہ کسی غلط فہمی سے بچا جا سکے۔

حوالہ جات

  • قرآن مجید: وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا (البقرہ: 275)
  • حدیث: الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا (بخاری و مسلم)
  • فتاویٰ ہندیہ: کتاب البیوع، باب المرابحہ

وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم

بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔

بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم

اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔

بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم

عورتوں کے باہمی جنسی تعلق کا حکم صرف قومِ لوط کے واقعے پر موقوف نہیں، بلکہ قرآن کے عمومی اصول سے واضح ہوتا ہے کہ جنسی تسکین کا حلال راستہ نکاح کے دائرے میں میاں بیوی کے درمیان ہے، اس کے علاوہ راستہ “حد سے تجاوز” ہے۔ سورۂ مؤمنون 23:5-7 میں اہلِ ایمان کی صفت بیان کی گئی کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، سوائے اپنی بیویوں کے؛ پھر فرمایا فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَ ذٰ لِكَ فَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ​ ۚ‏ ٧ کہ جو اس کے علاوہ راستہ چاہیں وہ حد سے بڑھنے والے ہیں۔ صحیح حدیث میں عورت کے عورت کے سامنے ستر کھولنے اور جسمانی قربت کے بارے میں بھی ممانعت آئی ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ عورت، عورت کی شرم گاہ نہ دیکھے، اور دو عورتیں ایک کپڑے کے نیچے نہ لیٹیں۔

عورت کے عورت سے جنسی تعلقات کا اسلامی حکم

قسم اور نذر کے احکام: نماز چھوڑنے پر روزوں کا کفارہ

قسم میں شرط یادداشت کا اعتبار اور کفارے کا حکم

Get In Touch

Newsletter

Subscription Form

Latest Posts

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔
بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔
بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم
اپریل 29, 2026
Read More »

Quick Menu

  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

Follow Us

Facebook Instagram Whatsapp Envelope Youtube

contact

  • deenalfurqan@gmail.com
  • +92309 26-88(992)

© Copyright deenalfarqan.com. All rights reserved.