Facebook Instagram Whatsapp Youtube Envelope
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Menu
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Change A Life
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

سوال

محترم مفتی صاحب! اگر کوئی شخص غیر مسلموں کے کلماتِ کفر کو نقل کرے اور یہ کہے کہ: "غیر مسلم یہ کہتے ہیں یا وہ کہتے ہیں”، تو قرآن و صحیح احادیث کی روشنی میں ایسے شخص کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟
کیا وہ عالم یا عام مسلمان بدستور مسلمان رہے گا یا صرف غیر مسلموں کے کلمات کفر کو نقل کرنے کی وجہ سے وہ خود بھی کفر کا مرتکب ہو جائے گا؟

جواب

واضح رہے کہ شرعاً کلماتِ کفر کو نقل کرنے سے بذاتِ خود کفر لازم نہیں آتا، بشرطیکہ نیت صرف حکایت یا علمی وضاحت ہو، نہ کہ اعتقاد، رضا یا تمسخر۔لہٰذا اگر کوئی شخص کلماتِ کفر بطورِ حکایت و نقل اس طرح بیان کرے کہ واضح ہو کہ یہ اس کا اپنا عقیدہ یا اعتقاد نہیں ہے، بلکہ محض یہ بتا رہا ہے کہ "کافر یہ کہتے ہیں” یا "ان کا عقیدہ یہ ہے”، تو اس پر کفر کا حکم نہیں لگتا۔البتہ اگر (نعوذباللہ) وہ نقل کرتے وقت ان اقوال پر ایمان، رضامندی یا دل کی طرف سے تصدیق کرے، یا اس کو صحیح سمجھے،یا استہزاء کے طور پر کہے تب وہ کفر میں داخل ہوجائے گا۔

1-لما في القرآن الكريم:

 قرآنِ کریم نے کفار کے اقوال نقل فرمائے:

فرعون کا قول:

فقَالَ أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَىٰ (النازعات: 24)

"اور فرعون نے کہا: میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں۔”

یہود کا قول:

 وَقَالَتِ الْيَهُودُ عُزَيْرٌ ابْنُ اللَّهِ (التوبہ: 30)

"اور یہود نے کہا کہ عزیر اللہ کا بیٹا ہے۔”

ان کلمات کوقرآن نےنقل کیا، مگرظاہر ہےقرآن ان کی تردید کے ساتھ آیا ہے۔

2-نبی کریم ﷺ نے بھی کفار و مشرکین کے باطل اقوال اپنی امت کو بتائے تاکہ وہ حق و باطل میں فرق جان سکیں۔

3-وفي الشامية:(358/6.ط: دار عالم الكتب)..

” اگر کوئی شخص کفر کا کلمہ (یعنی ایسا جملہ یا بات جو کفر ہے) مزاق میں یا کھیل ہی کھیل میں بھی بول دے، تو تمام فقہاء کے نزدیک وہ کافر ہو جائے گا۔ اس کے دل کا عقیدہ یا نیت کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ جیسا کہ فتاویٰ خانیہ میں صراحت کی گئی ہے۔

Share it :
innov8ive.lab@gmail.com
innov8ive.lab@gmail.com

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Popular Categories

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Ask a Mufti Online

Get clear, reliable answers to your Shariʿah questions from qualified scholars.

Drop Your Question Here!

Newsletter

Get free tips and resources right in your inbox, along with 10,000+ others

Latest Post

اپریل 29, 2026
بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔
اپریل 29, 2026
اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔
اپریل 29, 2026
عورتوں کے باہمی جنسی تعلق کا حکم صرف قومِ لوط کے واقعے پر موقوف نہیں، بلکہ قرآن کے عمومی اصول سے واضح ہوتا ہے کہ جنسی تسکین کا حلال راستہ نکاح کے دائرے میں میاں بیوی کے درمیان ہے، اس کے علاوہ راستہ “حد سے تجاوز” ہے۔ سورۂ مؤمنون 23:5-7 میں اہلِ ایمان کی صفت بیان کی گئی کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، سوائے اپنی بیویوں کے؛ پھر فرمایا فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَ ذٰ لِكَ فَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ​ ۚ‏ ٧ کہ جو اس کے علاوہ راستہ چاہیں وہ حد سے بڑھنے والے ہیں۔ صحیح حدیث میں عورت کے عورت کے سامنے ستر کھولنے اور جسمانی قربت کے بارے میں بھی ممانعت آئی ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ عورت، عورت کی شرم گاہ نہ دیکھے، اور دو عورتیں ایک کپڑے کے نیچے نہ لیٹیں۔
اپریل 29, 2026
اپریل 29, 2026
اپریل 29, 2026

Get In Touch

Newsletter

Subscription Form

Latest Posts

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔
بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔
بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم
اپریل 29, 2026
Read More »

Quick Menu

  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

Follow Us

Facebook Instagram Whatsapp Envelope Youtube

contact

  • deenalfurqan@gmail.com
  • +92309 26-88(992)

© Copyright deenalfarqan.com. All rights reserved.