Facebook Instagram Whatsapp Youtube Envelope
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Menu
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Change A Life
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Read in English
اردو میں پڑھیں
سودی رقم سے خریدا گیا موبائل — شرعی حکم اور عبادات کا استعمال

سودی رقم سے خریدی گئی چیز کا حکم

سوال:

میں ایک بات کھل کر بیان کرنا چاہتا ہوں۔ اس وقت میں شدید مالی تنگی سے گزر رہا ہوں اور تقریباً مفلس کی زندگی گزار رہا ہوں۔ لیکن کچھ عرصہ پہلے میں نے ایک موبائل فون خریدا تھا جو سودی رقم سے خریدا گیا تھا۔ اس فون کے ذریعے میں قرآن کی تلاوت کرتا ہوں، نماز کے اوقات دیکھتا ہوں، دعائیں سیکھتا ہوں اور اسے زیادہ تر دینی و عبادتی امور کے لیے استعمال کرتا ہوں۔
اب میری حالت یہ ہے کہ میرے پاس کچھ بھی مالی لحاظ سے باقی نہیں رہا۔ اس صورت میں اس موبائل فون اور اس کے استعمال کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟ کیا میری عبادات قبول ہوں گی؟

جواب:

حامداً و مصلیاً و مسلماً، امابعد

سود اور سودی مال کے بارے میں اسلامی تعلیمات:

مختصرًا یہ جان لیں کہ:

  • موبائل فون ناجائز نہیں۔
  • دینی کاموں میں استعمال جائز ہے۔
  • عبادات نیت پر موقوف ہیں، ان شاء اللہ قبول ہوں گی۔
  • سود سے توبہ اور آئندہ اجتناب ضروری ہے۔

مکمل تفصیلی جواب:

واضح رہے کہ سود ایک گناہِ کبیرہ ہے اور یہ انسان کو اخروی و روحانی نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ دنیا میں بھی مادی و معاشی طور پر بالکل تباہ کردینے والا بہت بڑا گناہ ہے۔ قرآن و حدیث میں اس کے بارے میں نہایت سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، اور سودی لین دین کرنے والے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ اعلانِ جنگ کرنے والے قرار دیے گئے ہیں۔ لیکن فقہائے کرام نے یہ مسئلہ بھی واضح فرمایا ہے کہ اگر کسی نے سودی مال سے کوئی چیز خرید لی، تو وہ چیز بذاتِ خود حرام العین نہیں ہوتی، بلکہ اس کا حکم یہ ہے کہ گناہ سودی معاملہ کرنے میں ہے، چیز میں نہیں۔

امام سرخسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«وَإِذَا اشْتَرَى بِالرِّبَا شَيْئًا فَهُوَ لَهُ حَلَالٌ بَعْدَ الْعَقْدِ وَالْإِثْمُ فِي الرِّبَا» (المبسوط، ج14، ص28)

 

یعنی اگر کوئی شخص سودی رقم سے کوئی چیز خرید لے تو وہ چیز بذاتِ خود حرام نہیں ہوتی، گناہ سود کے لین دین میں ہوتا ہے۔ لہٰذا آپ کا موبائل فون ناجائز نہیں ہے، آپ اس کو دینی اور جائز کاموں کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ البتہ سود لینے کا گناہ باقی ہے، جس کے لیے سچی توبہ ضروری ہے ، ضروری شرائط کے ساتھ(نادم ہونا، اللہ سے معافی مانگنا، اور آئندہ نہ کرنے کا پختہ عزم)۔

عبادات کی قبولیت اس سودی موبائل کے ساتھ ہوگی یا نہیں؟

عبادات کا تعلق نیت اور اخلاص سے ہے، آلے سے نہیں۔ اس لیے آپ کی تلاوت، دعائیں اور عبادات ان شاء اللہ قبول ہوں گی اگر نیت خالص ہو۔

مالی تنگی اور سود کی نحوست

قرآن و سنت میں سود کی نحوست اور برکت کے ختم ہونے کا ذکر آیا ہے:

«يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ» (البقرة: 276)

«فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ» (البقرة: 279)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«ما احد اكثر من الربا إلا كان عاقبة امره إلى قلة» (سنن ابن ماجہ: 2279)

لہٰذا مالی مشکلات کا ایک سبب سود کی نحوست بھی ہوسکتی ہے۔ اب آپ کا فریضہ یہ ہے کہ سچی توبہ کریں، آئندہ سود سے مکمل اجتناب کریں اور صدقہ و دعا کا اہتمام کریں۔

واللہ اعلم بالصواب

Share it :
Muhammad Yaseen
Muhammad Yaseen

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Popular Categories

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Ask a Mufti Online

Get clear, reliable answers to your Shariʿah questions from qualified scholars.

Drop Your Question Here!

Newsletter

Get free tips and resources right in your inbox, along with 10,000+ others

Latest Post

کسی مسلمان مرد و عورت کا اسلام کو چھوڑ دینا یعنی مرتد ہو جانا یہ ایک ایسا گناہ ہے کہ اگر بغیر توبہ کیے وہ مر گیا تو وہ سیدھا جہنم میں جائے گا۔ پھر چاہے اسلام چھوڑنے کی وجہ اس کا ذہنی خلفشار (ذہنی دباو اور پریشانی) ہو یا پھر حالات کی خرابی یا کوئی اور ایسی وجوہات ہوں جس کی بنا پر اس نے اسلام کو چھوڑ دیا ہو۔ اس میں کسی طرح کا کوئی عذر عنداللہ قابل قبول نہیں ہے۔ اس پر قران کریم کی واضح ایات احادیث اور اجماع امت یعنی ساری امت کے اکابرین کا اجماع موجود ہے تفصیلات ۔کے لیے مکمل جواب پڑھیں۔
جنوری 30, 2026
جنگی حالات میں ایمان کی کمزوری | اسلامی رہنمائی
دسمبر 15, 2025
شراب پینے والی روم میٹ کے ساتھ رہنا: شرعی حکم کیا ایسے گھر میں رہنا جہاں روم میٹ نجی طور پر شراب پیتی ہو، عبادت، رزق اور روحانیت پر اثر ڈالتا ہے؟ مکمل فقہی رہنمائی۔
دسمبر 15, 2025
حجاب اور شدید ذہنی دباؤ: کیا شریعت میں وقتی رخصت کی گنجائش ہے؟
دسمبر 15, 2025
عدالتی خلع کا شرعی حکم | شوہر کی رضامندی کے بغیر خلع معتبر ہے یا نہیں؟
دسمبر 15, 2025
دسمبر 15, 2025

Get In Touch

Newsletter

Subscription Form

Latest Posts

کسی مسلمان مرد و عورت کا اسلام کو چھوڑ دینا یعنی مرتد ہو جانا یہ ایک ایسا گناہ ہے کہ اگر بغیر توبہ کیے وہ مر گیا تو وہ سیدھا جہنم میں جائے گا۔ پھر چاہے اسلام چھوڑنے کی وجہ اس کا ذہنی خلفشار (ذہنی دباو اور پریشانی) ہو یا پھر حالات کی خرابی یا کوئی اور ایسی وجوہات ہوں جس کی بنا پر اس نے اسلام کو چھوڑ دیا ہو۔ اس میں کسی طرح کا کوئی عذر عنداللہ قابل قبول نہیں ہے۔ اس پر قران کریم کی واضح ایات احادیث اور اجماع امت یعنی ساری امت کے اکابرین کا اجماع موجود ہے تفصیلات ۔کے لیے مکمل جواب پڑھیں۔
کیا اسلام کو چھوڑ دینے والے (مرتد) کا جہنمی ہونا طےہے؟
جنوری 30, 2026
Read More »
جنگی حالات میں ایمان کی کمزوری | اسلامی رہنمائی
جنگی حالات میں ایمان کی کمزوری محسوس ہونا
دسمبر 15, 2025
Read More »
شراب پینے والی روم میٹ کے ساتھ رہنا: شرعی حکم کیا ایسے گھر میں رہنا جہاں روم میٹ نجی طور پر شراب پیتی ہو، عبادت، رزق اور روحانیت پر اثر ڈالتا ہے؟ مکمل فقہی رہنمائی۔
شراب پینے والے کے ساتھ رہنا
دسمبر 15, 2025
Read More »

Quick Menu

  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

Follow Us

Facebook Instagram Whatsapp Envelope Youtube

contact

  • deenalfurqan@gmail.com

© Copyright, deenalfarqan.com. All rights reserved.