Facebook Instagram Whatsapp Youtube Envelope
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Menu
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Change A Life
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Read in English
اردو میں پڑھیں
جنگی حالات میں ایمان کی کمزوری | اسلامی رہنمائی

جنگی حالات میں ایمان کی کمزوری محسوس ہونا

سوال

امید ہے یہ پیغام آپ تک خیریت اور مضبوط ایمان کے ساتھ پہنچے۔ اگر میرا سوال آپ کے معمول کے دائرے سے باہر ہو تو معذرت چاہتا ہوں، مگر میں خود کو ایک ایسی حالت میں پاتا ہوں جہاں رہنمائی کے لیے میرے پاس کوئی نہیں۔

میں یوکرین میں رہنے والا ایک مسلمان ہوں، اور تقریباً چار سال سے جنگ کی فرنٹ لائن کے بہت قریب رہ رہا ہوں۔ میرا شہر عملاً فرنٹ کا حصہ بن چکا ہے۔ الحمدللہ، میں اپنی پوری کوشش کرتا ہوں کہ سنت کے مطابق زندگی گزاروں، اگرچہ بہت سی کمزوریاں ہیں جن پر ابھی کام کرنا ہے۔

چار سال سے مسلسل جنگ کے دباؤ میں زندگی گزر رہی ہے۔ پچھلے ایک سال سے میں گھر سے باہر کام یا کسی دوسری جگہ نہیں جا سکتا، کیونکہ مردوں کو سڑکوں سے پکڑ کر زبردستی جنگ میں بھیجا جا رہا ہے۔ اس جنگ کے بارے میں میری اپنی رائے ہے، اور میری کچھ طبی بیماریوں کی وجہ سے مجھے معذوری/عدم شرکت کی رعایت ملنی چاہیے — مگر یہاں کوئی اس کا خیال نہیں رکھتا۔ اگر میں باہر نکلوں تو کچھ گھنٹوں میں پکڑے جانے کا حقیقی خطرہ ہے۔

اسی لیے پچھلے ایک سال سے میں تقریباً گھر میں قید ہوں۔ صرف ایک بار باہر نکل کر مختصر چہل قدمی کرتا ہوں۔ میں ذکر بھی کرتا ہوں اور صبر کی کوشش بھی۔ لیکن آسان ہونے کے بجائے حالات مزید سخت ہوتے جا رہے ہیں۔ میری عمر کے 36 سال میں جتنی بھی پرانی بیماریاں تھیں — وہ سب بگڑنے لگی ہیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ فی الحال وہ جان لیوا نہیں — مگر تکلیف بہت زیادہ ہے، اور اس حالت میں گھر میں رہنا بہت دشوار ہوتا جا رہا ہے۔

اصل سوال یہ ہے:
ان دنوں میں محسوس کر رہا ہوں کہ میرا ایمان کمزور ہونے لگا ہے۔ وہ طاقت، وہ جذبہ، وہ روحانی خوشی — جو پہلے محسوس ہوتی تھی — اب نہیں ہوتی۔ آنکھوں میں خود بخود آنسو آ جاتے ہیں۔ میں اپنی ماں کو دیکھتا ہوں جو میرے لیے کماتی ہے، محنت کر رہی ہے، اور مجھے گھر میں دیکھ کر ڈرتی ہے کہ اگر میں باہر گیا تو کہیں جنگ میں نہ بھیج دیا جاؤں۔ وہ خوف اور آنسوؤں کے ساتھ مجھے باہر نہ جانے کی درخواست کرتی ہے۔

اور میں اپنے اردگرد لوگوں کو انتہائی تکلیف میں دیکھتا ہوں — ایسی تکلیف جو بیان سے باہر ہے۔

اگر آپ کے پاس میری اس حالت کے لیے کوئی نصیحت، کوئی رہنمائی، یا کوئی حوصلہ افزا بات ہو تو میں بہت ممنون ہوں گا۔ اللہ آپ کو آپ کے وقت اور علم کا بہترین اجر دے۔

جزاکم اللہ خیراً۔

جواب

آپ کی حالت یہ ہےکہ ۴ سالوں سے مسلسل جنگی حالات میں گھرے ہوئے ہیں اور زبردستی جنگ میں بھیجے جانے سے بچنے کے لئے گھر میں قید ہیں، ساتھ میں بیماریوں نے گھیر رکھا ہے۔
ان سب مسائل کی وجہ سے اطمینان زائل ہوگیا ہے اور ایمان کی کمی محسوس ہورہی ہے، حالانکہ آپ کی کوشش ہے کہ زندگی سنت کے مطابق گزاریں۔

اس بارے میں یہ بات یاد رکھیں کہ بشری تقاضوں سے کوئی مستثنیٰ نہیں ہے، غم، اداسی، مایوسی، بے چارگی، یہ مسلمان، غیر مسلم، گنہگار، پارسا و متقی حتی کہ انبیاء پر بھی طاری ہوسکتی ہے۔ قرآن کریم میں ہے: حضرت یعقوبؑ سے ان کا محبوب بیٹا یوسف علیہ السلام بچپن میں بچھڑ گئے تو انہوں فرمایا: إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ (میں اپنے غم اور دکھ کی فریاد صرف اللہ سے کرتا ہوں) ــ یوسف: 86 اس سے معلوم ہوتا ہے باوجود جلیل القدر نبی ہونے کے انہیں اس قدر صدمہ ہوا کہ اللہ سے اپنے غم و دکھ کی فریاد کی۔

اسی طرح سورۃ البقرۃ آیت 214 میں ہے کہ:

"کیا تمہارا یہ گمان ہے کہ جنت میں داخل ہوجاؤ گے حالانکہ ابھی تم پرپہلے لوگوں جیسی حالت نہ آئی۔ انہیں سختی اور شدت پہنچی اور انہیں زور سے ہلا ڈالا گیا یہاں تک کہ رسول اور اس کے ساتھ ایمان والے کہہ اٹھے: اللہ کی مدد کب آئے گی؟ سن لو! بیشک اللہ کی مدد قریب ہے۔”

اس سے بھی واضح ہوتا ہے کہ آفات اور مصائب میں پریشان ہونا ایک فطری عمل ہے۔ لہذا آپ اطمینان رکھیں: آپ کا گھر میں رہنا، جان بچانا، جنگ میں زبردستی نہ جانا کوئی گناہ نہیں، بلکہ موجودہ حالت میں اپنی جان کی حفاظت ایک شرعی ذمہ داری ہے۔ اور آپ اس کو پورا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

کیا حالات میں پریشان ہونے سے واقعی ایمان کمزور ہوجاتا ہے؟

تو جواب ہے کہ نہیں۔ بےسکونی، دل کا بوجھل ہونا عبادات کی کیفیات کا ایک جیسا نہ رہنا ہمیشہ ایمان کی کمزوری کی علامت نہیں بنتا، اسی لئے شریعت ہمیں کیفیات کا نہیں اعمال کا مکلف بنایا ہے۔ لہٰذا فرض، واجب اور سنت موکدہ پر کم از کم کاربند رہیں، اور حرام و مکروہات سے اجتناب لازم رکھیں، ان شاء اللہ آپ کا ان کیفیات کی کمی پر کوئی عنداللہ کوئی مواخدہ نہیں ہوگا۔

کرنے کے عملی کام:

  • اگر آپ کو ایسا محسوس ہورہا ہے کہ ایمان کمزور ہے تو اسے مضبوط کرنے کی سعی کریں۔ اس کے لئے اس تنہائی کو غنیمت جانیں۔
  • اللہ سے خوب باتیں کریں، اپنے غم مصائب اور بیماریاں اللہ سے بیان کریں اس سے آپ کو ایمان کی تازگی اور مضبوطی کا احساس ہوگا۔
  • مزید یہ کہ لوگوں کے سامنے اپنی شکایات اور فریاد رکھنے کے بجائے اللہ کی بارگاہ میں فریاد کریں، لوگ شکایات پر اکتا جاتے ہیں لیکن اللہ تو فریاد سن کر اور خوش ہوتا ہے اور اپنے بندے اور نوازتا ہے۔ (پھر اس کی حکمت پر موقوف ہے، چاہے دنیا میں نواز دے یا اگر دنیا میں ہمارے لئے بہتر نہیں ہوتا تو اس دعا کے بدلے اسے آخرت میں نواز دیتا ہے۔)
  • اس کے علاوہ دن میں چند بار کلمہ طیبہ و استغفار پڑھ لیا کریں۔ یہ ایمان کو لکھاردیتے ہیں اور ایمان تروتازہ ہوجاتا ہے۔ کیفیات میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے لیکن یاد رکھیں یہ مقصود اور ضروری نہیں ہے۔
  • حضرت یونس علیہ السلام جب مچھلی کے پیٹ میں گھر گئے تھے تو انہوں نے "آیت کریمہ” لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ کا ودر فرمایا تھا، تو اللہ پاک نے اس "آیت کریمہ” اور رجوع الی اللہ کی برکت سے انہیں نہ صرف مچھلی کے پیٹ سے عافیت کے ساتھ نجات عطافرمائی بلکہ ان بیماری کے دور کرنے کے اسباب پیدا فرمادیے اور انہیں شفاء عطا فرمادی۔
  • مزید آپ یہ کریں کہ بہرصورت ایمان پر کاربند رہنے کا پختہ عزم رکھیں۔ خدانخواستہ حالات مزید خراب بھی ہوجائیں اور اللہ نہ کرے، اگر جان بھی خطرے میں آجائے پھر بھی ایمان سے منہ نہ موڑنے کا عزم بالجزم کرلیں، کیونکہ دنیوی زندگی اگر بہت طویل بھی مل جائے تو بھی عارضی و فانی ہے لیکن آخرت کی عیش والی زندگی صرف ایمان کے ساتھ دنیا سے جانے کی صورت میں ہی ملنا ممکن ہے۔
  • اپنی والدہ کی مدد جس حد تک کرسکیں کریں، آپ اگر باہر نہیں بھی جاسکتے پھر بھی جس حد تک ممکن ہو ان کی راحت کا سامان کریں، جب گھر آئیں تو ان کی خوب خدمت کریں اور انہیں خوش رکھیں اپنی باتوں، عادات اور خوش اخلاقی سے، اس طرح آپ ان کی پریشانیوں اور آزمائشوں کو کم کرسکتے ہیں۔
  • یاد رکھیں! اللہ کے سامنے یا ویسے ہی غم و پریشانی میں آنسوبہہ جانا اور دل کا غمگین ہونے میں کوئی حرج نہیں لیکن اعمال یا دل کے یقین سے اللہ کی مرضی کے خلاف کام کرنا یا دل سے کسی بات کا یقین کرلینا گناہ ہے۔ رسول خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ننھے اور عزیز بیٹے ابراہیم علیہ السلام کی وفات کے موقع پر جب آپ کے آنسو بہہ گئے تو فرمایا تھا:إِنَّ الْعَيْنَ تَدْمَعُ وَالْقَلْبَ يَحْزَنُ وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يَرْضَى رَبُّنَا وَإِنَّا بِفِرَاقِكَ يَا إِبْرَاهِيمُ لَمَحْزُونُونَ ( ابن عوف! یہ (میرا آنسو بہا کر رونا) بے صبری نہیں یہ تو رحمت ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ روئے اور فرمایا۔ آنکھوں سے آنسو جاری ہیں اور دل غم سے نڈھال ہے پر زبان سے ہم کہیں گے وہی جو ہمارے پروردگار کو پسند ہے اور اے ابراہیم! ہم تمہاری جدائی سے غمگین ہیں۔)  [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: Q1303]
Share it :
Muhammad Yaseen
Muhammad Yaseen

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Popular Categories

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Ask a Mufti Online

Get clear, reliable answers to your Shariʿah questions from qualified scholars.

Drop Your Question Here!

Newsletter

Get free tips and resources right in your inbox, along with 10,000+ others

Latest Post

کسی مسلمان مرد و عورت کا اسلام کو چھوڑ دینا یعنی مرتد ہو جانا یہ ایک ایسا گناہ ہے کہ اگر بغیر توبہ کیے وہ مر گیا تو وہ سیدھا جہنم میں جائے گا۔ پھر چاہے اسلام چھوڑنے کی وجہ اس کا ذہنی خلفشار (ذہنی دباو اور پریشانی) ہو یا پھر حالات کی خرابی یا کوئی اور ایسی وجوہات ہوں جس کی بنا پر اس نے اسلام کو چھوڑ دیا ہو۔ اس میں کسی طرح کا کوئی عذر عنداللہ قابل قبول نہیں ہے۔ اس پر قران کریم کی واضح ایات احادیث اور اجماع امت یعنی ساری امت کے اکابرین کا اجماع موجود ہے تفصیلات ۔کے لیے مکمل جواب پڑھیں۔
جنوری 30, 2026
جنگی حالات میں ایمان کی کمزوری | اسلامی رہنمائی
دسمبر 15, 2025
شراب پینے والی روم میٹ کے ساتھ رہنا: شرعی حکم کیا ایسے گھر میں رہنا جہاں روم میٹ نجی طور پر شراب پیتی ہو، عبادت، رزق اور روحانیت پر اثر ڈالتا ہے؟ مکمل فقہی رہنمائی۔
دسمبر 15, 2025
حجاب اور شدید ذہنی دباؤ: کیا شریعت میں وقتی رخصت کی گنجائش ہے؟
دسمبر 15, 2025
عدالتی خلع کا شرعی حکم | شوہر کی رضامندی کے بغیر خلع معتبر ہے یا نہیں؟
دسمبر 15, 2025
دسمبر 15, 2025

Get In Touch

Newsletter

Subscription Form

Latest Posts

کسی مسلمان مرد و عورت کا اسلام کو چھوڑ دینا یعنی مرتد ہو جانا یہ ایک ایسا گناہ ہے کہ اگر بغیر توبہ کیے وہ مر گیا تو وہ سیدھا جہنم میں جائے گا۔ پھر چاہے اسلام چھوڑنے کی وجہ اس کا ذہنی خلفشار (ذہنی دباو اور پریشانی) ہو یا پھر حالات کی خرابی یا کوئی اور ایسی وجوہات ہوں جس کی بنا پر اس نے اسلام کو چھوڑ دیا ہو۔ اس میں کسی طرح کا کوئی عذر عنداللہ قابل قبول نہیں ہے۔ اس پر قران کریم کی واضح ایات احادیث اور اجماع امت یعنی ساری امت کے اکابرین کا اجماع موجود ہے تفصیلات ۔کے لیے مکمل جواب پڑھیں۔
کیا اسلام کو چھوڑ دینے والے (مرتد) کا جہنمی ہونا طےہے؟
جنوری 30, 2026
Read More »
جنگی حالات میں ایمان کی کمزوری | اسلامی رہنمائی
جنگی حالات میں ایمان کی کمزوری محسوس ہونا
دسمبر 15, 2025
Read More »
شراب پینے والی روم میٹ کے ساتھ رہنا: شرعی حکم کیا ایسے گھر میں رہنا جہاں روم میٹ نجی طور پر شراب پیتی ہو، عبادت، رزق اور روحانیت پر اثر ڈالتا ہے؟ مکمل فقہی رہنمائی۔
شراب پینے والے کے ساتھ رہنا
دسمبر 15, 2025
Read More »

Quick Menu

  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

Follow Us

Facebook Instagram Whatsapp Envelope Youtube

contact

  • deenalfurqan@gmail.com

© Copyright, deenalfarqan.com. All rights reserved.