Facebook Instagram Whatsapp Youtube Envelope
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Menu
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Change A Life
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Read in English
اردو میں پڑھیں
حجاب اور شدید ذہنی دباؤ: کیا شریعت میں وقتی رخصت کی گنجائش ہے؟

لوگوں کے طعنوں اور معاشرتی دباو کی وجہ سے حجاب میں نرمی برتنا

سوال

میں 23 سالہ مسلمان لڑکی ہوں، اور پچھلے تین سال سے ایک غیر مسلم ملک میں اکیلے رہ رہی ہوں۔ میں کئی سال سے حجاب پہنتی آرہی ہوں، الحمدللہ، مگر حال ہی میں مجھے حجاب کی وجہ سے شدید جذباتی اور نفسیاتی تکلیف کا سامنا ہے۔

میں جارجیا میں رہتی ہوں جہاں مجھے اکثر لوگوں کی منفی نظریں، گھورنا، تنقیدی یا سخت رویّے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کچھ بار زبانی بدتمیزی بھی ہوئی ہے۔ ایک نمایاں حجاب پہننے والی مسلمان ہونے کی وجہ سے میں خود کو ہمیشہ *دیکھی جانے* یا *جج کیے جانے* کے احساس میں مبتلا پاتی ہوں۔ اس وجہ سے باہر نکلتے ہوئے بہت زیادہ گھبراہٹ، خوف، جسم میں کھنچاؤ اور اعتماد کی کمی ہوتی ہے۔

میرے پاس یہاں کوئی قریبی یا قابلِ اعتماد دوست نہیں، اور گھر کے حالات بھی دباؤ کا باعث ہیں — اس سال والدین کی طلاق نے بھی مجھے بہت متاثر کیا ہے۔ اکیلے رہنے کی وجہ سے یہ احساسات مزید بڑھ گئے ہیں۔

میرا اللہ نافرمانی کا کوئی ارادہ نہیں۔ میں حجاب سے محبت کرتی ہوں اور برسوں سے اسے پہنتی آئی ہوں، لیکن موجودہ حالات میں ذہنی صحت برقرار رکھتے ہوئے اسے پہننا میرے لیے بہت مشکل ہوگیا ہے۔

اور اس وقت مالی حالات کی وجہ سے کہیں اور منتقل ہونا بھی ممکن نہیں۔

میں نے خود بھی تحقیق کی ہے، لیکن اپنی مخصوص حالت کے لیے انفرادی فتویٰ چاہتی ہوں۔

میرا سوال یہ ہے کہ: اگر ایسی صورتِ حال ہو کہ نفسیاتی و جذباتی تکلیف انتہائی حد (حرج شدید) تک پہنچ جائے، اور میں کچھ وقت کے لیے کوئی ہلکی تبدیلی یا وقتی سہولت اختیار کروں — اس نیت کے ساتھ کہ جیسے ہی ذہنی و جذباتی استحکام واپس آجائے گا، میں مکمل حجاب کی طرف لوٹ آؤں گی —

تو کیا ایسی وقتی رعایت میرے لیے شرعاً جائز ہو سکتی ہے؟
اللہ آپ کو آسانی، رحم اور رہنمائی کے عوض بہترین اجر عطا فرمائے۔
جزاکم اللہ خیراً

جواب

حامداً و مصلياً
واضح رہے کہ شریعت مطہرہ میں بالغ مسلمان عورت کے لیے ستر و حجاب لازم ہے. بغیر شرعی عذر کے صرف معاشرتی دباؤ، لوگوں کا گھورنا، خوف، ناپسندیدہ گی یا نفسیاتی اذیت عام طور پر حجاب چھوڑنے کا جواز نہیں بنتا. شرعی عذر وہ چیزیں ہیں جن کی وجہ سے جان عقل عزت یا دین کے ضائع ہونے کا غالب اندیشہ ہو اور کوئی حلال متبادل راستہ بھی باقی نہ ہو۔۔۔
۔۔۔۔۔صورت مسئولہ میں آپ کی ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ آپ اللہ تعالی کے حکم کو تعلیم، ملازمت، آرام اور سماجی قبولیت پر مقدم رکھے کیونکہ شیطان انسان کو مختلف بہانوں سے فرائض سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے اس لیے آپ اللہ تعالی سے مدد مانگتی رہیں اور ثابت قدم رہیں یہی شرعی تقاضا ہے. البتہ آپ حجاب کے انداز میں سادگی اختیار کر سکتی ہیں (سادہ سکارف، میوٹڈ اور نیوٹرل رنگ، لمبا کوٹ وغیرہ) تاکہ شرائع پردہ بھی رہے غیر ضروری نمایان پن بھی کم ہو. اگر واقعی شدید، مستقل جسمانی، نفسیاتی، یا ذہنی نقصان ہو اور کوئی متبادل راستہ (جگہ بدلنا سپورٹ سسٹم) بھی نہ ہو تو وقتی طور پر بقدر ضرورت بشرطیکہ عذرختم ہوتے ہی واپسی کی نیت ہو تو رعایت اور ہلکی تبدیلی کی گنجائش ہوسکتی ہے ساتھ میں بغیر ضرورت کے باہر نکلنا بند کریں اور اللہ تعالی سے اسانی کی دعا مانگتی رہے
والله أعلم بالصواب
كتبه: محمد أفضل ظهوري

مزید تفصیلات کے لئے مکمل ملاحظہ فرمائیں:

حجاب کا حکم:

قرآنِ کریم میں مسلمان عورت کے لیے ستر و حجاب کا حکم بالکل صریح ہے
{یا ایها النبی قل لازواجك و بنٰتك و نسآء المؤمنین یدنین علیهن من جلابیبهن} (الاحزاب:۵۹ )
ترجمہ: ’’اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! اپنی ازواجِ مطہرات، اپنی بیٹیوں اور مؤمن عورتوں سے فرمادیجیے کہ اپنے (چہروں) پر پردے لٹکالیا کریں۔‘‘
اسی طرح یہ حکم بھی چہرے کے پردے کی دلیل ہے:
{واذا سألتموهن متاعاً فاسئلوهن من وراء حجاب} (الاحزاب:۵۳)
ترجمہ: ’’جب ازواج مطہرات سے کچھ پوچھنا ہو تو پردے کے پیچھے سے پوچھا کریں۔‘‘اور: «وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ» (سورۃ النور، آیت 31) ان آیات تصریحات کی رو سے بالغ لڑکی پر غیر محرم مردوں کے سامنے سر، بال، گردن، چہرہ اور پورے جسم کو ڈھانپنا فرض ہے، اور کپڑے ایسے ہوں کہ بدن کی ساخت نمایاں نہ ہو۔

 

یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ یہ معاملہ صرف “حجاب کی پابندی” یا “معاشرے کے دباؤ” کا نہیں، بلکہ براہِ راست اللہ تعالیٰ کے صریح حکم پر عمل کرنے یا نہ کرنے کا ہے۔ یعنی جب عورت حجاب کے ساتھ باہر جاتی ہے تو وہ اصل میں یہ فیصلہ کر رہی ہوتی ہے کہ میں اپنی تعلیم، نوکری، سماجی قبولیت وغیرہ سب پر اللہ کے حکم کو مقدم رکھوں گی۔ اور جب صرف دنیاوی خوف یا لوگوں کی باتوں کی وجہ سے حجاب چھوڑا جاتا ہے تو یہ اصل میں اللہ کے حکم کو پیچھے اور مخلوق کے خوف کو آگے رکھنے کی عملی صورت بن جاتی ہے، جو ایمان کے مزاج کے خلاف ہے۔

پردے میں حرج اور ضرورت کا اصول:

شریعت مطہرہ میں غیر معمولی مشقت کی صورت میں کچھ آسانیاں دی جاتی ہیں۔ لیکن فقہاء نے صاف لکھا ہے کہ ہر تکلیف “ضرورت” نہیں بنتی؛ ضرورت وہ ہے جہاں جان، عقل، عزت یا دین کے ضائع ہونے کا غالب اندیشہ ہو، اور کوئی حلال متبادل باقی نہ ہو۔ یعنی ہر وہ چیز جس سے مشکل ہو وہ شرعًا حرج شدید نہیں کہلاتا تاوقتیکہ اس سے اس قدر بڑے نقصان کا غالب اندیشہ نہ ہو۔

عام طور پر لوگوں کا گھورنا، منفی جملے، بدتمیزی، یا معاشرتی تناو – یہ سب اگرچہ سنگین آزمائش ہے، لیکن اصولی طور پر یہ اس درجہ کی “شرعی ضرورت” نہیں کہ حجاب کے فرض کو چھوڑنے کی رخصت مل جائے۔ یہاں شرعی تقاضا یہ ہے کہ مومنہ صبر، دعا، اور حکمت کے ساتھ حجاب پر ثابت قدم رہے، اور جہاں ممکن ہو، حجاب کے انداز میں ایسی جائز تبدیلی کرے جس سے معاشرتی دباؤ کچھ کم ہو مگر شرعی ستر برقرار رہے۔

مشابہ واقعات میں دیگر علماء کی طرف سے کی گئی ہدایات:

آپ کے سوال کی نوعیت نئی نہیں۔

  1. ۹/۱۱ کے بعد امریکہ میں ایک محجّبہ طالبہ نے اسلام ویب پر سوال کیا کہ یہاں حجاب والی عورتوں پر حملے ہو رہے ہیں، کیا میں یونیورسٹی پڑھائی کی خاطر حجاب اتار سکتی ہوں؟ وہاں کے مفتیانِ کرام نے صاف جواب دیا کہ حجاب فرض ہے، اور صرف ہراسانی اور حملوں کے خوف کی بنیاد پر حجاب چھوڑنے کی اجازت نہیں دی، بلکہ فرمایا کہ اگر واقعی شدید خطرہ ہو اور کوئی محفوظ حل نہ ہو تو تعلیم چھوڑ دینا، حجاب چھوڑنے سے بہتر ہے۔
    (فتویٰ نمبر 83309، عنوان: Removing Hijab in USA due to danger and threats to Muslims، تاریخ: 19-09-2001)

2. اسی طرح ایک یورپی ملک میں رہنے والی خاتون نے اسلام ویب پر پوچھا کہ موجودہ سیاسی حالات اور ستائے اور تکلیف دیے جانے کے خوف سے کیا وقتی طور پر حجاب اتار سکتی ہوں؟ وہاں بھی اصولی جواب یہ تھا کہ محض ہراساں کئے جانے کے اندیشے اور لوگ کیا کہیں گے کی بنیاد پر حجاب چھوڑنے کی اجازت نہیں، البتہ حجاب کے انداز میں تبدیلی، زیادہ محتاط لباس، اور غیر ضروری خروج چھوڑنے کی تاکید کی گئی۔
(فتویٰ نمبر 11071، تاریخ: 26-08-2015، عنوان: Ruling on a woman who goes out without Hijab in the Western countries out of necessity)

اسلام کیو اے کے فتویٰ نمبر 69432 میں بھی ایک بہن نے مغربی ملک میں ہراسگی کی وجہ سے حجاب اتارنے کی اجازت پوچھی، تو وہاں بھی حجاب چھوڑنے کو پسند نہیں کیا گیا، بلکہ یہ تجویز دی گئی کہ وہ شرعی پردے کو باقی رکھتے ہوئے ایسا لباس اختیار کرے جو  پردے کے ساتھ مقامی لباس کے ساتھ ملتا جلتا ہو جائے، تاکہ وہ شرعی طور پر ڈھکی بھی رہے اور ضرورت سے زیادہ نمایاں بھی نہ ہو۔

یہ سب واقعات واضح کر رہے ہیں کہ صرف خوفِ مزاحمت، گھورنے اور نامانوس فضاء کی وجہ سے حجاب چھوڑنے کی نہ عمومی اجازت دی گئی ہے، نہ اس کو شرعی ضرورت قرار دیا گیا ہے؛ بلکہ بار بار یہی کہا گیا کہ اگر حجاب اور کسی دوسرے کام میں ٹکر ہو تو حجاب کو قائم رکھو اور غیر واجب تعلیم/نوکری/باہر نکلنا ترک کر دو، کیونکہ وہ سب شرعاً فرض نہیں، جبکہ حجاب فرض ہے۔

آپ کیا کرسکتی ہیں:

۱) شرعی حکم کے مطابق آپ پر حجاب (سارا جسم بشمول سر اور چہرے کے چھپانا) فرض ہے، اور موجودہ بیان کردہ حالات کے ساتھ شرعاً یہی کہا جائے گا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے حکم کو ترجیح دیتے ہوئے حجاب پر قائم رہیں۔

۲) حجاب کا “انداز” آپ نرم کر سکتی ہیں: سادہ دوپٹہ یا اسکارف، نیوٹرل رنگ، اوپر سے لمبا کوٹ یا ہوڈی وغیرہ، تاکہ بال، گردن، جسم کی ساخت چھپی رہے لیکن آپ بہت نمایاں بھی نہ لگیں۔ اور لوگوں کی نظروں سے بھی کافی حد تک محفوظ رہیں۔ یہ حکمت ہے، رخصت نہیں۔

۳) غیر ضروری باہر آنے جانے، میل جول، ایسی جگہیں جہاں زیادہ گھورنے اور منفی جملے کسنے والوں کا سامنا ہو، ان سے حتی الامکان اجتناب کریں۔ اگر کبھی بوجھ بہت زیادہ ہو تو حجاب چھوڑنے کے بجائے ضرورت کے بغیر مارکیٹ، گھومنے پھرنے، میں ایسی ترتیب بنائیں کہ ایسی نوبت ہی کم پیش آئے؛ کیونکہ تعلیم، خاص ملازمت، یا باہر گھومنا فرض نہیں، اللہ کا حکم (حجاب) فرض ہے۔ یہی توازن ہے جس پر اوپر مذکور فتاویٰ نے بھی زور دیا ہے۔

۴) ساتھ ساتھ کسی قابلِ اعتماد خاتون عالمہ سے مقامی طور پر یا شیخ/مفتی سے آن لائن  رابطہ میں رہیں، نیک سہیلیوں سے ورچوئل تعلق – یہ سب شرعاً مفید اسباب ہیں، ان کو اختیار کرنا لازم کے قریب ہے تاکہ حجاب پر ثابت قدمی آسان ہو جائے۔

۵)اگرمالی مشکلات بھی ان مسائل کا سبب ہیں تو کوئی حلال جائز ذریعہ آمدن تلاش کرکے اس کو آسان بنائیں لیکن حتی الامکان حکم شریعت پر کسی چیز کو مقدم نہ ہونے دیں۔

۶) اللہ نہ کرے اگر کبھی ایسی نوبت پیش آجائے کہ پردے اور اسلامی حلیے کے ساتھ رہنا ناممکن ہوجائے یعنی شدید، مستقل جسمانی، نفسیاتی، یا ذہنی نقصان ہو اور کوئی متبادل راستہ (جگہ بدلنا سپورٹ سسٹم) بھی نہ ہو تو وقتی طور پر بقدر ضرورت رعایت اور ہلکی تبدیلی (زیادہ نمایاں حجاب کی بجائے نسبتا کم توجہ کھینچنے والا انداز) اختیار کرنے کی کنجائش ہے، بشرطیکہ عذرختم ہوتے ہی واپسی کی نیت ہو۔ ساتھ میں بغیر ضرورت کے باہر نکلنا بند کریں اور اللہ تعالی سے اسانی کی دعا مانگتی رہے۔

۷)اگر کبھی پردہ چھوٹ جائے تو اس کو حلال یا رخصت بالکل نہ سمجھیں بلکہ اللہ سے اس پر معافی اور دوبارہ اختیار کرنے کی مدد مانگتی رہیں، کیونکہ حضرت آدم علیہ السلام اور عزازیل یعنی ابلیس لعین دونوں سے غلطی سرزد ہوئی لیکن فرق یہ تھا کہ حضرت آدم علیہ السلام نے غلطی کا اعتراف کرکے اللہ سے معافی مانگ لی اور ابلیس نے اپنی نافرمانی کا جواز پیش کیا، سو ہمیشہ کے لئے مردود ٹھہرادیا گیا۔ لہٰذا اللہ کے حرام کو ہمیشہ حرام ہی سمجھیں، اگرچہ اس میں مبتلاء ہی کیوں نہ ہوں کیونکہ حرام کام میں مبتلاء گناہ گار ہوتا ہے اور اسے حلال بنانے والا یا اسے حلال کہنے یا سمجھنے والا معمولی گناہ گار نہیں بلکہ کافر کہلاتا ہے۔

اللہ پاک آپ کو ثابت قدم رکھے۔

 

Share it :
innov8ive.lab@gmail.com
innov8ive.lab@gmail.com

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Popular Categories

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Ask a Mufti Online

Get clear, reliable answers to your Shariʿah questions from qualified scholars.

Drop Your Question Here!

Newsletter

Get free tips and resources right in your inbox, along with 10,000+ others

Latest Post

کسی مسلمان مرد و عورت کا اسلام کو چھوڑ دینا یعنی مرتد ہو جانا یہ ایک ایسا گناہ ہے کہ اگر بغیر توبہ کیے وہ مر گیا تو وہ سیدھا جہنم میں جائے گا۔ پھر چاہے اسلام چھوڑنے کی وجہ اس کا ذہنی خلفشار (ذہنی دباو اور پریشانی) ہو یا پھر حالات کی خرابی یا کوئی اور ایسی وجوہات ہوں جس کی بنا پر اس نے اسلام کو چھوڑ دیا ہو۔ اس میں کسی طرح کا کوئی عذر عنداللہ قابل قبول نہیں ہے۔ اس پر قران کریم کی واضح ایات احادیث اور اجماع امت یعنی ساری امت کے اکابرین کا اجماع موجود ہے تفصیلات ۔کے لیے مکمل جواب پڑھیں۔
جنوری 30, 2026
جنگی حالات میں ایمان کی کمزوری | اسلامی رہنمائی
دسمبر 15, 2025
شراب پینے والی روم میٹ کے ساتھ رہنا: شرعی حکم کیا ایسے گھر میں رہنا جہاں روم میٹ نجی طور پر شراب پیتی ہو، عبادت، رزق اور روحانیت پر اثر ڈالتا ہے؟ مکمل فقہی رہنمائی۔
دسمبر 15, 2025
حجاب اور شدید ذہنی دباؤ: کیا شریعت میں وقتی رخصت کی گنجائش ہے؟
دسمبر 15, 2025
عدالتی خلع کا شرعی حکم | شوہر کی رضامندی کے بغیر خلع معتبر ہے یا نہیں؟
دسمبر 15, 2025
دسمبر 15, 2025

Get In Touch

Newsletter

Subscription Form

Latest Posts

کسی مسلمان مرد و عورت کا اسلام کو چھوڑ دینا یعنی مرتد ہو جانا یہ ایک ایسا گناہ ہے کہ اگر بغیر توبہ کیے وہ مر گیا تو وہ سیدھا جہنم میں جائے گا۔ پھر چاہے اسلام چھوڑنے کی وجہ اس کا ذہنی خلفشار (ذہنی دباو اور پریشانی) ہو یا پھر حالات کی خرابی یا کوئی اور ایسی وجوہات ہوں جس کی بنا پر اس نے اسلام کو چھوڑ دیا ہو۔ اس میں کسی طرح کا کوئی عذر عنداللہ قابل قبول نہیں ہے۔ اس پر قران کریم کی واضح ایات احادیث اور اجماع امت یعنی ساری امت کے اکابرین کا اجماع موجود ہے تفصیلات ۔کے لیے مکمل جواب پڑھیں۔
کیا اسلام کو چھوڑ دینے والے (مرتد) کا جہنمی ہونا طےہے؟
جنوری 30, 2026
Read More »
جنگی حالات میں ایمان کی کمزوری | اسلامی رہنمائی
جنگی حالات میں ایمان کی کمزوری محسوس ہونا
دسمبر 15, 2025
Read More »
شراب پینے والی روم میٹ کے ساتھ رہنا: شرعی حکم کیا ایسے گھر میں رہنا جہاں روم میٹ نجی طور پر شراب پیتی ہو، عبادت، رزق اور روحانیت پر اثر ڈالتا ہے؟ مکمل فقہی رہنمائی۔
شراب پینے والے کے ساتھ رہنا
دسمبر 15, 2025
Read More »

Quick Menu

  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

Follow Us

Facebook Instagram Whatsapp Envelope Youtube

contact

  • deenalfurqan@gmail.com

© Copyright, deenalfarqan.com. All rights reserved.