Facebook Instagram Whatsapp Youtube Envelope
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Menu
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Change A Life
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Read in English
اردو میں پڑھیں
عدالتی خلع کا شرعی حکم | شوہر کی رضامندی کے بغیر خلع معتبر ہے یا نہیں؟

شوہر کی رضامندی کے بغیر خلع

سوال

میری بیوی نے ایک جگہ سے فتویٰ لیا کہ عدالتی یکطرفہ خلع حرام ہوتی ہے یا نہیں جو کہ اسے کہا گیا کہ یہ حرام ہے اس کے بعد بھی اس نے عدالت سے خلع لے لی اب خلع ہوۓ 3 مہینے ہو چکے ہیں اب میں اور وہ ساتھ رہنا چاہتے ہیں لیکن میرے گھر والے کہتے ہیں کے عدالتی خلع کے بعد ساتھ رہنا جائز نہیں ہے جب کہ میں نے کبھی طلاق نہیں دی ہے اس نے عدالت سے یکطرفہ خلع لی ہے اب آپ مجھے بتا دیں ہمارا مزید ساتھ رہنا جائز ہے یا نہیں

جواب

واضح رہے کہ خلع شرعاً ایک عقد(معاہدہ) ہے جو شوہر کی رضامندی کے بغیر درست نہیں ہوتا۔ لہٰذا اگر عورت نے شوہر کی اجازت اور رضامندی کے بغیر محض عدالت کے ذریعے یکطرفہ خلع حاصل کی ہو، اور شوہر نے نہ طلاق دی ہو اور نہ خلع کو قبول کیا ہو، تو ایسی عدالتی خلع فقہِ حنفی کے مطابق شرعاً معتبر نہیں ہوتی۔ اس صورت میں نکاح بدستور قائم رہتا ہے اور میاں بیوی کا اکٹھے رہنا جائز ہے۔

البتہ یہ فرق سمجھنا ضروری ہے کہ اگر واقعی شوہر کی طرف سے ثابت شدہ ظلم و زیادتی پائی جائے، اور عورت شرعی تقاضوں کے مطابق عدالت میں اس کو دلائل کے ساتھ ثابت کر دے، اور عدالت شوہر کو طلب کرے مگر وہ حاضر نہ ہو، تو شوہر کی زیادتی کے باوجود عدالت میں حاضر نہ ہونے کی صورت میں عدالت کو فسخِ نکاح کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔ اس صورت میں ایک طلاقِ بائن واقع ہو جاتی ہے، یعنی شوہر کو رجوع کا حق نہیں ہوتا، اور عدت کے بعد عورت آزاد ہو جاتی ہے۔ یہ صورت خلع نہیں بلکہ فسخِ نکاح کہلاتی ہے اور شرعاً معتبر ہوتی ہے۔ اور بعد میں اگر زوجین راضی ہوں اور امید ہو کہ اللہ کے احکام کی پاسداری کر سکیں گے اور دوبارہ ایسی صورتِ حال کا سامنا نہیں ہوگا، تو دونوں بعد میں دوبارہ نئے مہر کے ساتھ نکاح کرسکتے ہیں۔
لیکن اگر محض شوہر کے عدالت میں حاضر نہ ہونے کی بنیاد پر، ظلم ثابت ہوئے بغیر محض عورت کے مطالبہ خلع یا محض بےبنیاد الزامات کی بناء پر، عدالت یکطرفہ طور پر خلع کا فیصلہ دے دے، تو ایسا خلع شرعاً درست نہیں ہوتا۔ اور ظلم بھی وہ معتبر ہے جسے شریعت نے قرآن و حدیث کی روشنی میں ظلم تسلیم کیا گیا ہو۔

چونکہ آپ کے بیان کے مطابق نہ آپ نے طلاق دی ہے اور نہ خلع پر رضامندی ظاہر کی ہے، اس لیے اگر خلع صرف یکطرفہ عدالتی تھی اور شوہر (یعنی آپ) کی طرف سے ظلم عدالت میں ثابت نہیں ہوا تو فسخِ نکاح کی شرعی بنیاد موجود نہ تھی، تو نکاح قائم ہے اور آپ دونوں کا ساتھ رہنا شرعاً جائز ہے۔
اور اگر آپ کی طرف سے زیادتی عدالت میں ثابت ہو بھی گئی ہو تو بھی ایک ہی طلاق بائن واقع ہوئی ہے۔ اس صورت میں آپ بغیر نکاح کے تو دوبارہ ایک دوسرے کو دیکھ بھی نہیں سکتے البتہ اگر چاہیں تو دوبارہ نئے مہر کے ساتھ نکاح کرسکتے ہیں اور پھر آپ کے پاس آئندہ صرف دو طلاقوں کا اختیار ہوگا کیونکہ ایک اس صورت میں عدالت کے فیصلہ سے واقع ہوچکی ہے۔
نیز یہ دوبارہ نکاح ضروری نہیں پہلے نکاح کی طرح مسجد میں اعلان کے ساتھ ہی ہو، آپ گھر میں ہی اپنے گھر والوں اور گواہان کی موجودگی میں کسی بھی عالم دین سے نکاح پڑھواسکتے ہیں۔

واللہ اعلم بالصواب

Share it :
Muhammad Yaseen
Muhammad Yaseen

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Popular Categories

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Ask a Mufti Online

Get clear, reliable answers to your Shariʿah questions from qualified scholars.

Drop Your Question Here!

Newsletter

Get free tips and resources right in your inbox, along with 10,000+ others

Latest Post

کسی مسلمان مرد و عورت کا اسلام کو چھوڑ دینا یعنی مرتد ہو جانا یہ ایک ایسا گناہ ہے کہ اگر بغیر توبہ کیے وہ مر گیا تو وہ سیدھا جہنم میں جائے گا۔ پھر چاہے اسلام چھوڑنے کی وجہ اس کا ذہنی خلفشار (ذہنی دباو اور پریشانی) ہو یا پھر حالات کی خرابی یا کوئی اور ایسی وجوہات ہوں جس کی بنا پر اس نے اسلام کو چھوڑ دیا ہو۔ اس میں کسی طرح کا کوئی عذر عنداللہ قابل قبول نہیں ہے۔ اس پر قران کریم کی واضح ایات احادیث اور اجماع امت یعنی ساری امت کے اکابرین کا اجماع موجود ہے تفصیلات ۔کے لیے مکمل جواب پڑھیں۔
جنوری 30, 2026
جنگی حالات میں ایمان کی کمزوری | اسلامی رہنمائی
دسمبر 15, 2025
شراب پینے والی روم میٹ کے ساتھ رہنا: شرعی حکم کیا ایسے گھر میں رہنا جہاں روم میٹ نجی طور پر شراب پیتی ہو، عبادت، رزق اور روحانیت پر اثر ڈالتا ہے؟ مکمل فقہی رہنمائی۔
دسمبر 15, 2025
حجاب اور شدید ذہنی دباؤ: کیا شریعت میں وقتی رخصت کی گنجائش ہے؟
دسمبر 15, 2025
عدالتی خلع کا شرعی حکم | شوہر کی رضامندی کے بغیر خلع معتبر ہے یا نہیں؟
دسمبر 15, 2025
دسمبر 15, 2025

Get In Touch

Newsletter

Subscription Form

Latest Posts

کسی مسلمان مرد و عورت کا اسلام کو چھوڑ دینا یعنی مرتد ہو جانا یہ ایک ایسا گناہ ہے کہ اگر بغیر توبہ کیے وہ مر گیا تو وہ سیدھا جہنم میں جائے گا۔ پھر چاہے اسلام چھوڑنے کی وجہ اس کا ذہنی خلفشار (ذہنی دباو اور پریشانی) ہو یا پھر حالات کی خرابی یا کوئی اور ایسی وجوہات ہوں جس کی بنا پر اس نے اسلام کو چھوڑ دیا ہو۔ اس میں کسی طرح کا کوئی عذر عنداللہ قابل قبول نہیں ہے۔ اس پر قران کریم کی واضح ایات احادیث اور اجماع امت یعنی ساری امت کے اکابرین کا اجماع موجود ہے تفصیلات ۔کے لیے مکمل جواب پڑھیں۔
کیا اسلام کو چھوڑ دینے والے (مرتد) کا جہنمی ہونا طےہے؟
جنوری 30, 2026
Read More »
جنگی حالات میں ایمان کی کمزوری | اسلامی رہنمائی
جنگی حالات میں ایمان کی کمزوری محسوس ہونا
دسمبر 15, 2025
Read More »
شراب پینے والی روم میٹ کے ساتھ رہنا: شرعی حکم کیا ایسے گھر میں رہنا جہاں روم میٹ نجی طور پر شراب پیتی ہو، عبادت، رزق اور روحانیت پر اثر ڈالتا ہے؟ مکمل فقہی رہنمائی۔
شراب پینے والے کے ساتھ رہنا
دسمبر 15, 2025
Read More »

Quick Menu

  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

Follow Us

Facebook Instagram Whatsapp Envelope Youtube

contact

  • deenalfurqan@gmail.com

© Copyright, deenalfarqan.com. All rights reserved.