Facebook Instagram Whatsapp Youtube Envelope
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Menu
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Change A Life
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Read in English
اردو میں پڑھیں
شراب پینے والی روم میٹ کے ساتھ رہنا: شرعی حکم کیا ایسے گھر میں رہنا جہاں روم میٹ نجی طور پر شراب پیتی ہو، عبادت، رزق اور روحانیت پر اثر ڈالتا ہے؟ مکمل فقہی رہنمائی۔

شراب پینے والے کے ساتھ رہنا

سوال

میں ایک مسلمان خاتون ہوں اور اپنی تعلیم کے لیے ایک دوسرے شہر میں رہ رہی ہوں۔ میری روم میٹ میری کئی سال پرانی قریبی دوست ہے — ہم نے اسکول ایک ساتھ کیا اور اب ایک ہی مضمون میں پڑھائی کے لیے اکٹھے آئے ہیں۔ ہمارے الگ الگ کمرے ہیں۔ میرا سوال میرے *روحانی اطمینان* کے بارے میں ہے۔ میری روم میٹ کبھی کبھی اپنے کمرے میں تھوڑی مقدار میں شراب پیتی ہے۔ مشترکہ فریج میں کبھی کبھی شراب کی بوتل بھی ہوتی ہے۔ وہ عادی نہیں، نہ ہی مجھے کبھی مجبور کرتی ہے۔ وہ جانتی ہے کہ یہ غلط ہے، اور میرے سامنے کبھی نہیں پیتی۔ میں اسے نرمی سے کئی بار سمجھا چکی ہوں اور مجھے لگتا ہے کہ میں نے اپنی ذمہ داری پوری کردی ہے۔ میری تشویش غصے یا اس کے عمل کی مذمت سے نہیں ہے — بلکہ *اپنے بارے میں* ہے۔ میں ڈرتی ہوں کہ ایسے گھر میں رہنا جہاں کبھی کبھار نجی طور پر شراب نوشی ہوتی ہو، کیا اس سے میری روحانیت، عبادت، برکت یا رزق پر کوئی اثر پڑ سکتا ہے؟ میں اپنے کمرے میں نماز پڑھتی ہوں اور اپنی جگہ کو پاکیزہ رکھنے کی کوشش کرتی ہوں، لیکن گھر کے مجموعی ماحول کے بارے میں فکرمند ہوں۔ یہ صورتِ حال چند سال کی ہے، کیونکہ تعلیم مکمل ہونے کے بعد ہم گھر واپس چلے جائیں گے، ان شاءاللہ۔ *میرے سوالات یہ ہیں:* 1. کیا ایسے گھر میں رہنا جہاں کوئی نجی طور پر شراب پیتا ہو، میرے لیے کسی روحانی نقصان یا برکت/رزق میں کمی کا سبب بن سکتا ہے؟ 2. جب میں اس عمل کو ناپسند کرتی ہوں اور اس میں شریک نہیں ہوتی، تو نرمی سے سمجھانے کے بعد کیا مجھ پر مزید کوئی ذمہ داری باقی رہتی ہے؟ 3. کیا اپنی تعلیم کے دوران یہاں رہنا شرعاً جائز ہے؟ اس معاملے میں آپ کی رہنمائی کی بہت شکر گزار ہوں گی۔ جزاکم اللہ خیراً۔

جواب

الجواب باسمہ تعالیٰ

شراب کا شریعت میں حکم

شراب پینا قطعی حرام اور کبیرہ گناہ ہے، قرآن و حدیث میں اس پر سخت وعیدیں آئی ہیں، اور شراب کے متعلقہ کام کرنے والوں (پینے والے، پلانے والے، بیچنے والے وغیرہ) پر لعنت بھی وارد ہوئی ہے۔ البتہ آپ جس کیفیت میں ہیں، اس دو الگ چیزیں ہیں:
1. شراب پینا: آپ کی روم میٹ کا ذاتی گناہ ہے، اس کا شرعی وبال اس پر ہے۔
2. اسی گھر میں رہنا: آپ کا ایک گھر میں رہنا باعث گناہ نہیں تاوقتیکہ آپ اس میں کسی بھی درجہ مطمئن یا معاون نہ ہوں۔

اگر آپ اس عمل سے راضی نہیں، اس میں شریک نہیں نہ خریدنے، نہ لانے، نہ پلانے میں کوئی تعاون کرتی ہیں۔ (حتی کہ پینے کے لئے اٹھا کر لاکر دینا بھی گناہ ہے۔) اور جب وہ پیے تو آپ اس مجلس/کمرے میں موجود نہیں ہوتیں، تو صرف اسی وجہ سے کہ وہ نجی طور پر اپنے کمرے میں شراب پیتی ہے، آپ خود گناہ گار نہیں ہوں گی، اور آپ کی نماز، دعا، رزق اور برکت براہِ راست اس کے گناہ کی وجہ سے کالعدم نہیں ہوتے۔ ہاں، عمومی طور پر جہاں گناہ ہوتا ہے وہاں سے اللہ کی خاص رحمت اور سکینت میں کمی آتی ہے، اس لیے ایسا ماحول روحانی لحاظ سے بےبرکت ضرور ہوتا ہے، لیکن: اگر آپ خود گناہ سے بچی ہوئی ہیں، حلال کھاتی پیتی ہیں، ذکر و نماز کا اہتمام کرتی ہیں، گناہ سے ناپسندیدگی رکھتی ہیں، تو آپ کے ذاتی رزق و برکت اور عبادت کا اجر آپ کے اپنے اعمال کے مطابق ہوگا، روم میٹ کے گناہ کی بنیاد پر آپ سے برکت چھن نہیں جاتی۔

نہی عن المنکر (برائی سے روکنے) میں آپ کی ذمہ داری

شریعت نے حکم دیا ہے کہ برائی دیکھنے پر طاقت کے مطابق اسے روکا جائے:

  • ہاتھ سے (اختیار ہو تو)،
  • ورنہ زبان سے (نرمی سے سمجھانا)،
  • ورنہ دل سے برا سمجھنا (جو ایمان کا کم ترین درجہ ہے)۔

آپ بتا رہی ہیں کہ آپ نرمی سے کئی بار سمجھا چکی ہیں، وہ جانتی بھی ہے کہ یہ غلط ہے، آپ کو مجبور نہیں کرتی، آپ اس سے ناراضگی اور ناپسندیدگی بھی رکھتی ہیں۔ ایسی صورت میں آپ نے اپنی زبان سے سمجھانے والی ذمہ داری ادا کر دی۔ اب ہر وقت اس موضوع پر بحث، جھگڑا، مسلسل ڈانٹ ڈپٹ شرعاً لازم نہیں، بلکہ اگر مزید زور دینے سے تعلقات بگڑنے، جھگڑے یا کسی بڑے نقصان کا اندیشہ ہو تو بار بار سمجھانا ضروری بھی نہیں رہتا، البتہ موقع محل کے مناسب پر نرمی کے ساتھ یاد دہانی کرنا اچھی بات ہے، فرض نہیں۔

البتہ آپ پر یہ لازم رہے گا کہ اس کے عمل کو دل سے برا سمجھیں، جب وہ شراب پی رہی ہو تو اس مجلس/کمرے میں بیٹھنے سے بھی اجتناب کریں، کیونکہ شراب نوشی کی مجلس میں شریک ہونا اور وہاں موجود رہنا بھی سخت ناپسندیدہ اور بعض صورتوں میں گناہ کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ اور اگر آپ کی ناراضگی سے اس کو فکرمند ہوکر شراب کو ترک کردینے کی امید ہوتو ناراضگی کا اظہار بھی کرنا چاہیئے۔ اس سے آگے، جب نصیحت ہو چکی، آپ شریک نہیں، راضی نہیں، تو کوئی اضافی شرعی گناہ آپ کے ذمہ نہیں رہتا۔

ایسے گھر میں رہنے کا شرعی حکم

آپ کا اس گھر میں رہائش کا معاہدہ (سیٹ/روم کرایہ پر لینا) خود جائز کام کے لیے ہے: رہنے، سونے، پڑھنے وغیرہ کے لیے۔ اور روم میٹ اس جائز جگہ کو اپنی طرف سے ناجائز مصرف (شراب نوشی) میں استعمال کر رہی ہے، اس کا گناہ اسی پر ہے، جب تک:

  • آپ اس میں شریک نہ ہوں،
  • اس کے لیے سامان معصیت نہ لائیں،
  • شراب خریدنے/لانے/رکھوانے میں مدد نہ دیں،
  • اور آپ نے اپنی ناپسندیدگی واضح کر دی ہو۔

مشترکہ فریج کے بارے میں شرعی حکم

فریج کا اصل استعمال حلال چیزوں کے لیے ہے۔ اگر وہ اپنی بوتل وہاں رکھ دیتی ہے، اور آپ نے صاف بتا دیا ہو کہ: “میں شراب سے متفق نہیں، اسے پسند نہیں کرتی، اور نہ اپنی چیزیں اس کے ساتھ مکس رکھنا چاہتی ہوں” آپ اپنی چیزیں الگ حصے یا الگ شیلف/باکس میں رکھتی ہوں، تو ایسی صورت میں آپ پر گناہ نہیں، معصیت اسی کے کھاتے میں ہو گی۔

شراب والے گھر میں نماز اور عبادت

آپ کا اپنے کمرے میں نماز پڑھنا صحیح اور درست ہے، شراب کا بند بوتل کی شکل میں کہیں اور رکھا ہونا جگہ کو شرعاً نجس نہیں بنا دیتا، جب تک وضو، کپڑے اور جائے نماز پاک ہو، آپ کی عبادت صحیح اور قابلِ قبول ہونے کی امید ہے، ان شاء اللہ۔ اس سب کو سامنے رکھتے ہوئے اگر آپ کے لیے ابھی فوراً کوئی متبادل، محفوظ، دینی ماحول والا ہاسٹل/رہائش آسانی سے میسر نہیں، اور یہاں رہنے کے دوران آپ خود گناہ سے بچی ہوئی ہیں، تو تعلیم کے دوران اس جگہ رہنا شرعاً جائز ہے، اگرچہ ماحول کی وجہ سے مکروہ و نا پسندیدہ ضرور ہے۔ ہاں، تقویٰ، روحانی ترقی اور دل کے اطمینان کے اعتبار سے بہتر یہی ہے کہ جیسے ہی مناسب متبادل جگہ مل جائے، جہاں ایسا گناہ نہ ہو یا کم از کم کھلم کھلا نہ ہو، تو وہاں منتقل ہو جانا افضل اور زیادہ روحانی فائدے کا سبب ہوگا۔

ایک ضروری اہم انتباہ

آپ کا شریعت، روحانیت اور اپنے تعلق مع اللہ کے بارے میں فکر مند ہونا بہت قیمتی اور قابلِ قدر بات ہے، اللہ تعالیٰ اس پر آپ کو اجر عطا فرمائے۔ البتہ اسی کے ساتھ ایک اہم کوتاہی کا احتمال بھی موجود ہے، جس کی طرف متوجہ ہونا ضروری ہے۔ آپ نے اپنے سوال میں ذکر کیا کہ آپ تعلیم کے لیے ایک دوسرے شہر میں رہائش پذیر ہیں، اور یہ معاملہ بذاتِ خود عورت کے سفر اور بغیر محرم اقامت کے شرعی احکام سے جڑا ہوا ہے۔ ممکن ہے کہ اسی پہلو میں نادانستہ طور پر شرعی تقاضوں سے کچھ چشم پوشی ہو رہی ہو۔ اس پہلو کو اچھی طرح سمجھنے کے لیے "عورت کا بغیر محرم سفر” کے عنوان سے ہمارا دوسرا سوال و جواب ضرور ملاحظہ فرمائیں۔

واللہ اعلم بالصواب
Share it :
Muhammad Yaseen
Muhammad Yaseen

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Popular Categories

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Ask a Mufti Online

Get clear, reliable answers to your Shariʿah questions from qualified scholars.

Drop Your Question Here!

Newsletter

Get free tips and resources right in your inbox, along with 10,000+ others

Latest Post

کسی مسلمان مرد و عورت کا اسلام کو چھوڑ دینا یعنی مرتد ہو جانا یہ ایک ایسا گناہ ہے کہ اگر بغیر توبہ کیے وہ مر گیا تو وہ سیدھا جہنم میں جائے گا۔ پھر چاہے اسلام چھوڑنے کی وجہ اس کا ذہنی خلفشار (ذہنی دباو اور پریشانی) ہو یا پھر حالات کی خرابی یا کوئی اور ایسی وجوہات ہوں جس کی بنا پر اس نے اسلام کو چھوڑ دیا ہو۔ اس میں کسی طرح کا کوئی عذر عنداللہ قابل قبول نہیں ہے۔ اس پر قران کریم کی واضح ایات احادیث اور اجماع امت یعنی ساری امت کے اکابرین کا اجماع موجود ہے تفصیلات ۔کے لیے مکمل جواب پڑھیں۔
جنوری 30, 2026
جنگی حالات میں ایمان کی کمزوری | اسلامی رہنمائی
دسمبر 15, 2025
شراب پینے والی روم میٹ کے ساتھ رہنا: شرعی حکم کیا ایسے گھر میں رہنا جہاں روم میٹ نجی طور پر شراب پیتی ہو، عبادت، رزق اور روحانیت پر اثر ڈالتا ہے؟ مکمل فقہی رہنمائی۔
دسمبر 15, 2025
حجاب اور شدید ذہنی دباؤ: کیا شریعت میں وقتی رخصت کی گنجائش ہے؟
دسمبر 15, 2025
عدالتی خلع کا شرعی حکم | شوہر کی رضامندی کے بغیر خلع معتبر ہے یا نہیں؟
دسمبر 15, 2025
دسمبر 15, 2025

Get In Touch

Newsletter

Subscription Form

Latest Posts

کسی مسلمان مرد و عورت کا اسلام کو چھوڑ دینا یعنی مرتد ہو جانا یہ ایک ایسا گناہ ہے کہ اگر بغیر توبہ کیے وہ مر گیا تو وہ سیدھا جہنم میں جائے گا۔ پھر چاہے اسلام چھوڑنے کی وجہ اس کا ذہنی خلفشار (ذہنی دباو اور پریشانی) ہو یا پھر حالات کی خرابی یا کوئی اور ایسی وجوہات ہوں جس کی بنا پر اس نے اسلام کو چھوڑ دیا ہو۔ اس میں کسی طرح کا کوئی عذر عنداللہ قابل قبول نہیں ہے۔ اس پر قران کریم کی واضح ایات احادیث اور اجماع امت یعنی ساری امت کے اکابرین کا اجماع موجود ہے تفصیلات ۔کے لیے مکمل جواب پڑھیں۔
کیا اسلام کو چھوڑ دینے والے (مرتد) کا جہنمی ہونا طےہے؟
جنوری 30, 2026
Read More »
جنگی حالات میں ایمان کی کمزوری | اسلامی رہنمائی
جنگی حالات میں ایمان کی کمزوری محسوس ہونا
دسمبر 15, 2025
Read More »
شراب پینے والی روم میٹ کے ساتھ رہنا: شرعی حکم کیا ایسے گھر میں رہنا جہاں روم میٹ نجی طور پر شراب پیتی ہو، عبادت، رزق اور روحانیت پر اثر ڈالتا ہے؟ مکمل فقہی رہنمائی۔
شراب پینے والے کے ساتھ رہنا
دسمبر 15, 2025
Read More »

Quick Menu

  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

Follow Us

Facebook Instagram Whatsapp Envelope Youtube

contact

  • deenalfurqan@gmail.com

© Copyright, deenalfarqan.com. All rights reserved.