Language Block
This page is also available in Urdu language.
یہ صفحہ اردو میں بھی موجود ہے۔ زبان کی تبدیلی کے لیے نیچے بٹن دبائیں۔
سوال:
مجھے ماہواری کے بارے میں ایک مسئلہ درپیش ہے، سمجھ نہیں آ رہا اسے کیا کہوں۔ میری رطوبت/ڈسچارج سرخ ہے، بدبو دار بھی ہے، اور سرخ سے کتھئی ہو رہی ہے۔ کیا یہ حیض (ماہواری) ہے یا استحاضہ؟
جواب:
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
صورتِ مسئولہ میں آپ نے جو کیفیت لکھی ہے کہ رطوبت سرخ ہے، پھر سرخی مائل کتھئی ہوجاتی ہے، تو اس کا حکم مطلقاً رنگت کی بناء پر نہیں بتایا جاسکتا، بلکہ اس میں آپ کی سابقہ عادتِ حیض، پچھلی پاکی کے دن، اور خون/رطوبت کی مدت دیکھ کر حکم لگایا جاتا ہے۔
حیض اور استحاضہ میں فرق کا بنیادی اصول
خالص سفیدی کے علاوہ باقی رنگ (جیسے زرد، سبز، کتھئی بھورا، سرخ وغیرہ) ایامِ حیض میں ہوں تو حیض کے شمار ہوتے ہیں۔ اس لیے اگر یہ سرخ یا بھورا مادہ آپ کی عادت والے دنوں میں آرہا ہے تو اصل حکم یہی ہوگا کہ اسے حیض شمار کیا جائے۔
اور اگر یہ حیض کی عادت کے دنوں کے علاوہ دنوں میں آئے تو اس میں دیکھنا چاہیئے کہ پچھلا حیض ختم ہوئے اگر پندرہ دن نہیں گزرے تو یہ استحاضہ ہے تاوقتیکہ وقفہ کے پندرہ دن پورے ہوجائیں۔ اس کے بعد عادت کے دنوں میں پھر حیض شمار ہوگا۔ (مزید سمجھنے کے لئے مکمل پڑھیں، آگے تفصیل آرہی ہے.)
عادت سے زیادہ خون آئے تو کیا حکم ہوگا؟
مزید یہ کہ اگر عادت کے دن پورے ہونے کے بعد بھی خالص سفیدی نہ آئے اور رنگ دار رطوبت/خون جاری رہے تو دس دن مکمل ہونے تک انتظار کیا جائے گا۔ اگر دس دن پورے ہونے سے پہلے بند ہوگیا تو جتنے دن آئے سب حیض شمار ہوں گے. اور عادت تبدیل ہوجائے گی۔ لیکن اگر دس دن سے بھی بڑھ گیا تو پھر آپ کی سابقہ عادت کے دن حیض شمار ہوں گے اور اس کے بعد کا خون استحاضہ ہوگا۔
عادت سے بڑھ کر ماہواری آنے کی صورت میں حیض اور استحاضہ میں فرق کرنے کی ایک مثال
مثلاً: عادت اگر چھ دن کی تھی لیکن ساتوے دن بھی خون آتا رہا تو اسے ایک دم استحاضہ نہیں کہا جاسکتا کیونکہ ابھی 10 دن مکمل نہیں ہوئے، اور عادت 10 دنوں تک جاسکتی ہے۔ لہذا انتظار کرنا ہوگا، اگر خون 6 سے بڑھ 10 دنوں سے کم وقت میں بند ہوگیا مثال کے طور پر 9 دنوں میں بند ہوگیا تو سمجھا جائے گا کہ عادت اب 9 دن کی ہوگئی ہے اور یہ 9 دن پورے حیض کے تھے۔
لیکن اگر خون 10 سے بھی آگے بڑھ گیا مثال کے طور پر 11-12 دنوں تک تو پھر یہ سمجھا جائے گا کہ حیض تو عادت کے مطابق 6 دن ہی تھا، اس کے بعد کے ایام استحاضہ کے تھے، لہٰذا استحاضہ والے ایام کی نمازیں قضاء کرنی ہونگی۔
پاکی کے دنوں (طہر) کی کم سے کم مدت | کیا مہینہ مکمل ہونے پہلے دوبارہ حیض آسکتا ہے؟
دو حیضوں کے درمیان کم از کم پندرہ دن طہر ضروری ہے۔ لہٰذا اگر ایک حیض ختم ہونے کے بعد پندرہ دن پورے ہونے سے پہلے دوبارہ خون/رنگ دار رطوبت شروع ہوجائے تو وہ حیض نہیں بلکہ استحاضہ شمار ہوگا؛ اس حالت میں عورت شرعاً پاکی کے احکام میں ہوتی ہے، یعنی نماز، روزہ وغیرہ ادا کرے گی۔
لہٰذا آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ محض “سرخ/بھورا” دیکھ کر فوراً استحاضہ نہیں کہا جائے گا، بلکہ اگر یہ ایامِ عادت یا مدتِ حیض کے اندر ہے تو حیض ہوگا، اور اگر پندرہ دنِ طہر سے پہلے آیا ہے تو استحاضہ ہوگا، اور اگر عادت سے بڑھ کر دس دن سے تجاوز کرجائے تو عادت کے دن حیض اور باقی استحاضہ شمار ہوگا۔ اسی بنا پر بدبو کا ذکر شرعی تقسیم میں اصل معیار نہیں بنتا، اصل مدار عادت، ایام، اور مدت پر ہوتا ہے۔
استحاضہ کے اور مشکوک ایام (جن میں حیض جاری رہنے یا ختم ہونے کا یقین نہ ہو) میں شوہر کے لئے ہمبستری کا حکم
اور اگر مسئلہ ہم بستری سے متعلق بھی درپیش ہو تو استحاضہ کے ایام میں شوہر کے لیے ہم بستری جائز ہے۔
البتہ اگر خون عادت کے دن پورے ہونے سے پہلے بند ہوجائے تو نماز تو غسل کے بعد شروع کردی جائے گی، مگر شوہر کے لیے ہم بستری عادت کے دن مکمل ہونے سے پہلے جائز نہیں ہوگی، کیونکہ ہوسکتا ہے کہ ابھی حیض منقطع نہ ہوا بلکہ کسی عارضی جسمانی وجہ سے بیچ میں وقفہ آگیا ہو اور اگر عادت کے مطابق حیض ختم ہو تو غسل (یا ایک نماز کے وقت کے گزرنے) کے بعد اجازت ہوگی۔
آپ کی خاص صورت میں قطعی حکم دینے کے لیے یہی تفصیل ضروری ہے کہ:
- پچھلا حیض کس تاریخ کو ختم ہوا؟
- اس کے بعد کتنے دن پاکی رہی؟
- آپ کی مقررہ عادت کتنے دن کی ہے؟
- اور موجودہ سرخ/کتھئی رطوبت کتنے دن سے ہے؟
- اور خالص سفیدی آئی ہے یا نہیں؟
انہیں تفصیلات کی بنیاد پر آپ کو آنے والے خون یا مواد پر حیض یا استحاضہ کا حکم حتمی طور پر لگایا جاسکتا ہے۔
فقط واللہ أعلم