Facebook Instagram Whatsapp Youtube Envelope
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Menu
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Change A Life
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

This page is also available in English language.

یہ صفحہ انگریزی میں بھی موجود ہے۔ زبان کی تبدیلی کے لیے نیچے بٹن دبائیں۔

اردو میں پڑھیں
Read in English

سوال:

میں اپنے ایک دوست کے لیے لکھ رہا ہوں۔ میں نے حال ہی میں ایک خاتون سے شادی کی ہے۔ نکاح کے وقت دو امام بطور گواہ موجود تھے اور انہوں نے نکاح پڑھایا۔

لیکن جس خاتون سے میں نے شادی کی ہے، ان کا پہلا شوہر شدید بیمار ہے اور پچھلے دس سال سے فالج کا شکار ہے۔ ان دونوں کے درمیان پچھلے دس سال سے کوئی ازدواجی تعلق نہیں ہے۔ وہ خاتون ایک طویل عرصے تک صبر کرتی رہی۔ شوہر کی شدید بیماری کی وجہ سے شوہر طلاق دینے پر آمادہ نہیں ہے۔

تاہم، ایک مرتبہ شوہر نے خود اس سے کہا تھا کہ وہ اسے طلاق دے سکتی ہے اور کسی دوسرے مرد سے شادی کر سکتی ہے۔ اب وہ خاتون خلع/طلاق لینا چاہتی ہے کیونکہ ان کے درمیان دس سال سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

کیا وہ اپنے پہلے شوہر کو خلع کے بارے میں اطلاع دے سکتی ہے؟ چونکہ شوہر شدید بیمار ہے، اس کی ذہنی اور جسمانی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے قانونی کارروائی بھی مناسب نہیں لگتی۔

میرا سوال یہ ہے کہ کیا ہماری موجودہ شادی درست (valid) ہے؟ یا ہمیں دوبارہ کسی اور طریقے سے نکاح کرنا ہوگا؟ اگر دوبارہ نکاح کرنا ہو تو اس کا درست طریقہ کیا ہے؟

وہ خاتون اپنے پہلے شوہر سے علیحدگی حاصل کرنا چاہتی ہے تاکہ باقاعدہ طور پر اس سے طلاق لے کر دوبارہ شادی کر سکے۔

مزید یہ کہ جب اس کی پہلی شادی کم عمری میں ہوئی تو وہ گوری رنگت والے مرد کو پسند کرتی تھی جبکہ اس کا شوہر ایسا نہیں تھا، اس لیے وہ شادی پر راضی نہیں تھی لیکن اس کے والدین نے اسے مجبور کر کے شادی کروا دی۔ بعد میں اس نے تقریباً ایک دہائی بطور میاں بیوی اس کے ساتھ گزاری، پھر وہ شوہر بیمار ہو گیا۔

تو کیا پہلی شادی بھی درست (valid) تھی؟


جواب:

بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ

اگر کسی عورت کا پہلا شوہر زندہ ہو، طلاق نہ دی ہو، عقدِ خلع باہمی رضامندی سے نہ ہوا ہو، اور معتبر شرعی فسخِ نکاح بھی ثابت نہ ہو، تو محض لمبے عرصے تک الگ رہنے یا ازدواجی تعلق ختم ہوجانے سے نکاح خود بخود ختم نہیں ہوتا۔ اسی بنیاد پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسی عورت کا دوسرا نکاح شرعاً درست ہوگا یا نہیں، اور اگر پہلے شوہر نے کبھی یہ کہا ہو کہ “تم دوسری جگہ شادی کرلو” تو اس جملے کا شرعی حکم کیا ہوگا۔ اہلِ سنت حنفی دارالافتاء کے فتاویٰ کی روشنی میں اس مسئلے کی ترتیب وار وضاحت ذیل میں پیش کی جارہی ہے۔

نکاح کے باقی رہنے یا ختم ہونے کا بنیادی اصول

حنفی فقہ کے مطابق نکاح ایک قائم عقد ہے، جو صرف اس وجہ سے ختم نہیں ہوتا کہ میاں بیوی کے درمیان برسوں سے تعلقات نہ ہوں، یا وہ الگ رہ رہے ہوں، یا شوہر بیماری کی وجہ سے ازدواجی حقوق ادا نہ کرسکتا ہو۔ نکاح کے خاتمے کے لیے شرعاً طلاق یا باہمی رضامندی سے خلع یا معتبر شرعی وجہ کے ساتھ فسخِ نکاح کا پایا جانا ضروری ہے۔

کیا شوہر کی رضامندی کے بغیر خلع ہوسکتا ہے؟

حنفی فقہ میں خلع ایک باہمی معاملہ ہے، اور اصل اصول یہ ہے کہ اس کے لیے دونوں میاں بیوی کی رضامندی ضروری ہوتی ہے۔ اگر عورت اپنی طرف سے یک طرفہ خلع لے لے، یا عدالت سے ایسا فیصلہ لے آئے جس میں شوہر کی رضامندی شامل نہ ہو، تو وہ ہر حال میں شرعی خلع نہیں بن جاتا۔ مفتیانِ کرام نے واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ یک طرفہ عدالتی خلع نہ شریعتِ مطہرہ کی نظر میں خلع شمار ہوگا اور نہ لازماً فسخِ نکاح سمجھا جائے گا، جب تک اس کی شرعی شرائط پوری نہ ہوں۔

خلع اور فسخِ نکاح میں فرق

عام لوگوں کی بڑی غلطی یہ ہوتی ہے کہ وہ خلع اور فسخِ نکاح کو ایک ہی چیز سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ شریعت مطہرہ کی رو سے دونوں کے درمیان فرق ہے۔ خلع عموماً میاں بیوی کی باہمی رضامندی سے ہوتا ہے، جبکہ فسخِ نکاح مخصوص شرعی اسباب اور معتبر ثبوت کے ساتھ کسی شرعی فورم یا قاضی کے ذریعے ہوسکتا ہے۔ اس لیے اگر شوہر شدید بیمار ہو، حقوق ادا نہ کرسکتا ہو، اور طلاق بھی نہ دے رہا ہو، تو یہ معاملہ یک طرفہ خلع نہیں بلکہ ممکنہ طور پر فسخِ نکاح کے دائرے میں دیکھا جائے گا، اور اس کے لیے الگ شرائط ہوں گی۔

اگر شوہر نے کہا ہو “تم جہاں چاہو شادی کرلو” تو کیا طلاق ہوجاتی ہے؟

یہ نکتہ اس مسئلے کی اصل بنیاد ہے۔ اگر پہلے شوہر نے واقعی یہ الفاظ کہے ہوں کہ “تم جہاں چاہو نکاح کرلو” یا “تم دوسری شادی کرلو” تو حنفی فقہ کے مطابق یہ کنایۂ طلاق کے الفاظ ہیں، جبکہ شوہر نے اسے طلاق کی نیت سے کہا ہو۔ لیکن اگر اس نے طلاق کی نیت نہیں کی تو کنائی (اشارتًا طلاق دینے والے) الفاظ کے ساتھ بغیر نیت کے مطلقًا طلاق واقع نہیں ہوتی۔ علمائے کرام نے صاف لکھا گیا ہے کہ اگر یہ جملہ شوہر نے طلاق کی نیت سے کہا تھا تو ایک طلاقِ بائن واقع ہوجاتی ہے، اور اگر نیت طلاق کی نہ تھی تو نکاح برقرار رہتا ہے۔ اسی طرح ایک دوسرے فتوے میں “یہ جہاں چاہے شادی کرسکتی ہے” کو بھی کنایہ الفاظ قرار دے کر نیت کے ساتھ مشروط کیا ہے۔
دیکھئے اصل فتویٰ: شوہر کا بیوی سے کہنا: جہاں چاہو نکاح کرلو

اس سے معلوم ہوا کہ صرف اتنا کہ “اس نے کبھی اجازت دی تھی” کافی نہیں، بلکہ اصل فیصلہ اس پر ہوگا کہ اس نے کون سے الفاظ کہے، کس موقع پر کہے، اور اس کی نیت کیا تھی۔ اگر نیتِ طلاق ثابت ہو جائے تو نکاح ختم ہوسکتا ہے، اور اگر نیت ثابت نہ ہو تو نکاح باقی سمجھا جائے گا۔

اگر پہلا نکاح قائم ہو تو دوسرا نکاح کیسا ہوگا؟

اگر عورت اپنے پہلے شوہر کے نکاح میں ہو، اور ابھی تک نہ طلاق ثابت ہو، نہ خلع، اور نہ فسخِ نکاح، تو ایسے میں دوسرے مرد سے نکاح شرعاً درست نہیں ہوگا۔ اس لیے صرف یہ بات کافی نہیں کہ دوسرے نکاح کے وقت دو گواہ موجود تھے یا کسی امام نے نکاح پڑھا دیا تھا، کیونکہ نکاح کی صحت کے لیے ایک بنیادی شرط یہ بھی ہے کہ عورت کسی دوسرے کے نکاح میں نہ ہو۔ اگر پہلا نکاح قائم ہو تو دوسرا نکاح منعقد نہیں ہوتا۔

کیا پہلی شادی جبر کی وجہ سے باطل تھی؟

سوال میں یہ بھی ذکر ہے کہ عورت کم عمری میں اس شادی پر دل سے راضی نہیں تھی، کیونکہ وہ شوہر کو پسند نہیں کرتی تھی اور والدین نے دباؤ میں شادی کروادی۔ اس نکتے میں شرعی تفصیل ضروری ہے۔ صرف یہ کہ عورت دل سے خوش نہیں تھی، یا شوہر کی شکل و صورت یا رنگت پسند نہیں تھی، اس سے نکاح خود بخود باطل نہیں ہوجاتا۔ شرعی اعتبار اصل میں اس بات کا ہوتا ہے کہ نکاح کے وقت ایجاب و قبول ہوا یا نہیں، اور عورت کی طرف سے اجازت یا قبولیت کسی معتبر صورت میں موجود تھی یا نہیں۔ اگر اس نے نکاح کے وقت قبول کیا تھا، خواہ خاندانی دباؤ کے ماحول میں ہی کیوں نہ ہو، تو نکاح صحیح شمار ہوگا۔ اس لیے پہلی شادی کو صرف ناپسندیدگی کی بنیاد پر باطل کہنا درست نہیں۔

متعلقہ خاتون کے لئے شرعی حکم

اس پورے واقعہ کو یکجا کرکے دیکھا جائے تو شرعی حکم یہ ہے کہ صرف دس سال سے ازدواجی تعلق نہ ہونے کی وجہ سے پہلا نکاح ختم نہیں ہوا۔ اگر عورت نے شوہر کی رضامندی کے بغیر خلع سمجھ کر خود کو آزاد مان لیا، تو یہ کافی نہیں۔ اگر پہلے شوہر کے وہ الفاظ جن میں اس نے دوسری شادی کی اجازت دی، واقعی طلاق کی نیت کے ساتھ کہے گئے تھے، تو ایک طلاقِ بائن واقع ہوچکی ہے؛ اور اگر نیت طلاق کی نہ تھی تو نکاح باقی رہے گا۔ طلاق کی نیت ہونے یا نہ ہونے کا اعتبار شوہر کے حلفی بیان سے ہوگا، یعنی اگر وہ حلفًا کہہ دے کہ اس نے طلاق کی نیت نہیں کی تھی تو نکاح باقی رہے گا۔ ایسی صورت میں جب تک پہلے نکاح سے شرعی فراغت یقینی طور پر ثابت نہ ہوجائے، دوسرے نکاح کو صحیح قرار نہیں دیا جاسکتا۔

اب شرعی طور پر درست راستہ کیا ہے؟

اس عورت کے لیے درست راستہ یہ ہے کہ پہلے نکاح کی شرعی حیثیت واضح کی جائے۔ سب سے پہلے یہ دیکھا جائے کہ آیا پہلے شوہر کی طرف سے کوئی صریح طلاق، تحریری طلاق، یا کنایۂ طلاق مع نیت ثابت ہوتی ہے یا نہیں۔ اگر یہ ثابت نہ ہو تو پھر باہمی رضامندی سے خلع یا معتبر شرعی سبب کے تحت فسخِ نکاح کی طرف رجوع کیا جائے۔ اگر پہلے نکاح سے واقعی فراغت حاصل ہوجائے، تو اس کے بعد عدت پوری کرکے نئے سرے سے صحیح شرعی نکاح کیا جائے۔ موجودہ مشتبہ نکاح پر اعتماد کرنا درست نہ ہوگا جب تک پہلی زوجیت کے خاتمے کا شرعی ثبوت واضح نہ ہو۔

خلاصہ

اس مسئلے کا خلاصہ یہ ہے کہ محض شوہر کی شدید بیماری، فالج، یا لمبے عرصے سے ازدواجی تعلق نہ ہونے سے نکاح ختم نہیں ہوتا۔ شوہر کی رضامندی کے بغیر یک طرفہ خلع اصل حنفی موقف کے مطابق معتبر نہیں۔ “تم دوسری شادی کرلو” جیسے الفاظ کنایۂ طلاق ہوسکتے ہیں، مگر ان کا حکم نیت پر موقوف ہے۔ اگر پہلا نکاح قائم تھا تو دوسرا نکاح درست نہیں ہوگا۔ اور اگر پہلی شادی میں ایجاب و قبول ہوگیا تھا تو صرف ناپسندیدگی یا دباؤ کی وجہ سے اسے باطل نہیں کہا جائے گا۔ اس لیے اس طرح کے معاملے میں اصل ضرورت یہ ہے کہ پہلے نکاح کے خاتمے کی شرعی بنیاد متعین کی جائے، پھر ہی نئے نکاح کے بارے میں درست فیصلہ کیا جائے۔

وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ

Share it :
Muhammad Yaseen
Muhammad Yaseen

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Popular Categories

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Ask a Mufti Online

Get clear, reliable answers to your Shariʿah questions from qualified scholars.

Drop Your Question Here!

Newsletter

Get free tips and resources right in your inbox, along with 10,000+ others

Latest Post

مارچ 23, 2026
شوہرِ اول کے زندہ ہونے کی صورت میں دوسرا نکاح: خلع، فسخِ نکاح اور موجودہ شادی کا شرعی حکم بغیر طلاق یا معتبر خلع کے دوسری شادی کا حکم: حنفی فقہ کی روشنی میں تفصیلی جواب کیا پہلا نکاح باقی ہو تو دوسرا نکاح درست ہوتا ہے؟ خلع، کنایۂ طلاق اور زبردستی نکاح کا شرعی جائزہ
مارچ 23, 2026
نکاح کے معاملہ میں شریعت نے مرد و عورت کو پسند اور ناپسند کا پورا اختیار دیا ہے اور والدین کو جبر و سختی سے منع کیا ہے۔ دوسری طرف لڑکے اور لڑکی کو بھی ترغیب دی کہ وہ والدین کو اعتماد میں لے کر ہی کوئی قدم اٹھائیں۔ 37 اسی طرح ایک اور فتویٰ میں واضح کیا گیا ہے کہ شادی کے معاملے میں اولاد کی رضامندی لازم ہے، اگر والدین کسی غیرمناسب جگہ رشتہ تجویز کریں تو اولاد کو انکار کا حق ہے، اور اگر وہ اپنی ناگواری کے باوجود محض والدین کی رضاجوئی اور ان کے احترام کی بنا پر اسے قبول کرلے تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک عظیم اجر کی مستحق ہے، لیکن اگر وہ قبول نہ کرے تو والدین کو اس پر جبر کرنے کا کوئی حق نہیں۔
مارچ 19, 2026
مارچ 16, 2026
حنفی فقہ کے مطابق خلع “عقدِ معاوضہ” ہے: واضح ایجاب و قبول کے بغیر خلع/تیسری طلاق نہیں ہوتی۔ خلوتِ صحیحہ کے بعد طلاق عموماً بائن، عدت لازم، اور واپسی کے لیے نیا نکاح ضروری ہوتا ہے۔
مارچ 4, 2026
جوانی میں خواہشِ نفس: استمناء کا حکم اور متبادل طریقے استمناء بالید: علماء کی آراء اور احتیاطی رہنمائی خود لذتی اور بغیر انزال چھیڑ چھاڑ: سوال و جواب
فروری 26, 2026

Get In Touch

Newsletter

Subscription Form

Latest Posts

کریڈٹ کارڈ رکھنا اور استعمال کرنا شرعاً جائز ہے؟ کیا حرام کام کے معاہدہ کے بعد بھی کریڈٹ کارڈ جائز ہے؟
مارچ 23, 2026
Read More »
شوہرِ اول کے زندہ ہونے کی صورت میں دوسرا نکاح: خلع، فسخِ نکاح اور موجودہ شادی کا شرعی حکم بغیر طلاق یا معتبر خلع کے دوسری شادی کا حکم: حنفی فقہ کی روشنی میں تفصیلی جواب کیا پہلا نکاح باقی ہو تو دوسرا نکاح درست ہوتا ہے؟ خلع، کنایۂ طلاق اور زبردستی نکاح کا شرعی جائزہ
شوہرِ اول کے زندہ ہونے کی صورت میں دوسرا نکاح: خلع، فسخِ نکاح
مارچ 23, 2026
Read More »
نکاح کے معاملہ میں شریعت نے مرد و عورت کو پسند اور ناپسند کا پورا اختیار دیا ہے اور والدین کو جبر و سختی سے منع کیا ہے۔ دوسری طرف لڑکے اور لڑکی کو بھی ترغیب دی کہ وہ والدین کو اعتماد میں لے کر ہی کوئی قدم اٹھائیں۔ 37 اسی طرح ایک اور فتویٰ میں واضح کیا گیا ہے کہ شادی کے معاملے میں اولاد کی رضامندی لازم ہے، اگر والدین کسی غیرمناسب جگہ رشتہ تجویز کریں تو اولاد کو انکار کا حق ہے، اور اگر وہ اپنی ناگواری کے باوجود محض والدین کی رضاجوئی اور ان کے احترام کی بنا پر اسے قبول کرلے تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک عظیم اجر کی مستحق ہے، لیکن اگر وہ قبول نہ کرے تو والدین کو اس پر جبر کرنے کا کوئی حق نہیں۔
والدین کی شدید مخالفت کے باوجود پسند کی شادی کرنا کیسا ہے؟ | خاندان نہ مانے تو کیا کروں؟
مارچ 19, 2026
Read More »

Quick Menu

  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

Follow Us

Facebook Instagram Whatsapp Envelope Youtube

contact

  • deenalfurqan@gmail.com
  • +92309 26-88(992)

© Copyright deenalfarqan.com. All rights reserved.