محترم مفتی صاحب!
میرا ایک مسئلہ طلاق کے بارے میں ہے، براہِ کرم رہنمائی فرما دیں۔
میں نے اپنی بیوی سے ناراضی کے عالم میں کہا: "اگر تم نے فلاں بات پر رات 12 بجے تک ‘نہیں’ کہا تو طلاق ہو جائے گی۔”
بنیادی طور پر جب میں منفی سوچ رہا تھا لیکن دل سے میں اس لفظ اور لفظ کا استعمال نہیں کرنا چاہتا جو میں صرف اس لیے استعمال کرتا ہوں کہ میں اپنی بیوی پر دباؤ ڈالنا چاہتا ہوں کہ میں وہی کروں اور مجھے یقین تھا کہ اب اس کے پاس کوئی چارہ نہیں ہے اور اسے میری بات سننی ہوگی۔
اس کا مطلب ہے کہ میں اپنی سوچ میں واضح نہیں تھا، میری ایک سوچ صرف دھمکی تھی اور اسے وہی کرنا ہے جو میں چاہتا ہوں اور اگلی بری سوچ یہ تھی کہ اگر وہ میری خواہش کے مطابق نہیں کرے گی تو ایسا ہو جائے گا، یعنی دونوں سوچیں میرے ذہن میں تھیں اور مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا کروں۔
بعد میں میں نے کہا:”میں اپنی بات واپس لیتا ہوں، میں نے جو کہا تھا وہ ختم کرتا ہوں۔”
میرا سوال یہ ہے کہ:
1. اگر میری بیوی نے واقعی “نہیں” کہا — تو کیا طلاق واقع ہو گئی؟
2. اگر میں نے “میں اپنی بات واپس لیتا ہوں” رات 12 بجے سے پہلے کہا، تو کیا اس سے میری پہلی بات ختم ہو گئی؟
3.میں پہلے ہی ایک سال میں 2 بار مختلف مواقع پر لفظ طلاق استعمال کر چکا ہوں۔
یعنی ایک دفعہ میں نے کہا کہ میں نے تمہیں ایک طلاق دی ہے۔
اگلی بار میں وہ لفظ استعمال کروں گا جو میں نے آپ کو دوسری طلاق دی ہے۔
تیسری بار میں نے تیسری طلاق کا لفظ اس چیز کے ساتھ جوڑا اگر وہ کرے گی تو ہو جائے گا اور اگر ایسا نہیں ہوا تو نہیں ہو گا لیکن اس وقت میرے دل میں یہ بات واضح تھی کہ اس کی اندر سے دھمکی تھی کہ میں اسے طلاق نہیں دینا چاہتا اور ایک طرف ان کے برے خیالات بھی تھے جو اسے طلاق دے دیتے ہیں۔
4. اگر ایسی صورت میں طلاق واقع ہو گئی ہو، تو کیا وہ طلاقِ رجعی شمار ہوگی یا بائن؟
5. اگر یہ تیسری طلاق ہے تو کیا اب ہمیں دوبارہ نکاح حلالہ کے بغیر کرنا ہوگا؟ یا ان کا کوئی طریقہ ہے؟
میری دل کی نیت طلاق دینے کی ہرگز نہیں تھی۔ میں نے صرف اسے ڈرانے اور بات منوانے کے لیے یہ کہا تھا، یعنی محض دھمکی دی تھی۔ اس وقت بھی اور بعد میں بھی میرا ارادہ طلاق دینے کا نہیں تھا۔
کیا اس طرح کے جملے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے؟ اگر شرط (یعنی بیوی کا وہ کام نہ کرنا) پوری ہو جائے، تب بھی کیا طلاق واقع ہوگی؟ ایسے الفاظ جو طلاق کے لیے کنایہ (اشارہ) ہوں، لیکن نیت صرف دھمکی ہو — ان کا شرعی حکم کیا ہے؟
براہ کرم قرآن و سنت اور فقہِ حنفی کی روشنی میں تفصیلی جواب عطا فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے۔ جزاکم اللہ خیراً