Facebook Instagram Whatsapp Youtube Envelope
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Menu
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Change A Life
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Read in English
اردو میں پڑھیں
کسی مسلمان مرد و عورت کا اسلام کو چھوڑ دینا یعنی مرتد ہو جانا یہ ایک ایسا گناہ ہے کہ اگر بغیر توبہ کیے وہ مر گیا تو وہ سیدھا جہنم میں جائے گا۔ پھر چاہے اسلام چھوڑنے کی وجہ اس کا ذہنی خلفشار (ذہنی دباو اور پریشانی) ہو یا پھر حالات کی خرابی یا کوئی اور ایسی وجوہات ہوں جس کی بنا پر اس نے اسلام کو چھوڑ دیا ہو۔ اس میں کسی طرح کا کوئی عذر عنداللہ قابل قبول نہیں ہے۔ اس پر قران کریم کی واضح ایات احادیث اور اجماع امت یعنی ساری امت کے اکابرین کا اجماع موجود ہے تفصیلات ۔کے لیے مکمل جواب پڑھیں۔

کیا اسلام کو چھوڑ دینے والے (مرتد) کا جہنمی ہونا طےہے؟

سوال

میں اس وقت مسلمان ہوں، لیکن میں یہ سوال کرنا چاہتا ہوں کہ اگر میں تکلیف، خطرات، اور دین سے جڑے صدموں کی وجہ سے اسلام چھوڑ دوں، اس لیے کہ مجھے ذہنی الجھن ہے، دنیا میں بہت سے مذاہب ہیں اور مجھے سکون محسوس نہیں ہو رہا، اور میں غیر مسلم بن جاؤں، پھر کبھی اسلام کی طرف واپس نہ آؤں، اور غیر مسلم ہی حالت میں میری موت ہو جائے — تو کیا میں سیدھا جہنم میں جاؤں گا؟

یا یہ معاملہ میرے اور اللہ کے درمیان ہوگا، اور اللہ میری حالت کو سمجھ سکتا ہے، مجھے معاف کر سکتا ہے، اور اگر اسلام حق ہے تو میری کیفیت، بچپن سے محرومی اور تکلیف کو جانتے ہوئے مجھے جنت میں بھی داخل کر سکتا ہے؟

میں جہنم سے بہت ڈرا ہوا ہوں، اس لیے براہِ کرم میری رہنمائی کریں۔ میں نے ایک مفتی، مفتی زید سے پوچھا تھا، انہوں نے کہا کہ سب ٹھیک ہو جائے گا، مجھے معافی مل سکتی ہے۔ میں اسی بات کی دوبارہ تصدیق چاہتا ہوں۔”

جواب

خلاصہ جواب

کسی مسلمان مرد و عورت کا اسلام کو چھوڑ دینا یعنی مرتد ہو جانا یہ ایک ایسا گناہ ہے کہ اگر بغیر توبہ کیے وہ مر گیا تو وہ سیدھا جہنم میں جائے گا۔ پھر چاہے اسلام چھوڑنے کی وجہ اس کا ذہنی خلفشار (ذہنی دباو اور پریشانی) ہو یا پھر حالات کی خرابی یا کوئی اور ایسی وجوہات ہوں جس کی بنا پر اس نے اسلام کو چھوڑ دیا ہو۔ اس میں کسی طرح کا کوئی عذر عنداللہ قابل قبول نہیں ہے۔ اس پر قران کریم کی واضح ایات احادیث اور اجماع امت یعنی ساری امت کے اکابرین کا اجماع موجود ہے تفصیلات ۔کے لیے مکمل جواب پڑھیں۔

ارتداد (دین اسلام کو چھوڑ کر روگردانی کرلینے) کی سنگینی

اللہ تعالی کی رحمت اپنے بندوں کے اوپر بے حد و بے پناہ ہے۔ اسی رحمت کی بنا پر اللہ تعالی نے ہماری رہنمائی کے لیے انبیاء کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا اور ہمیں راہ ہدایت دکھائی۔ اس کے بعد بھی جو شخص اللہ تعالی کی دکھائی ہوئی راہ کو چھوڑ کر کوئی اور راستہ اختیار کر لے اور اسلام سے مرتد ہو جائے تو یہ ایسا سنگین جرم ہے کہ جس سے معافی مانگے بغیر مر جانے والے کے لیے اللہ پاک نے واضح طور پر ارشاد فرمایا ہے

وَمَن يَرْتَدِدْ مِنكُمْ عَن دِينِهِ فَيَمُتْ وَهُوَ كَافِرٌ فَأُولَٰئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۖ وَأُولَٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ (سورۃ البقرہ: ۲۱۷)
اور تم میں سے جو اپنے دین سے پھر جائے اور کفر کی حالت میں مر جائے، تو ایسے لوگوں کے اعمال دنیا اور آخرت میں برباد ہو گئے، اور وہی لوگ جہنم والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔”

 

اس سے واضح ہوتا ہے کہ کفر کی حالت میں مرنے والا خواہ کوئی ہو وہ جہنم میں جائے گا بھی اور ہمیشہ اس میں رہے گا یہ اللہ تعالی نے اعلان فرما دیا ہے۔ لہذا اللہ تعالی کی رحمت کا یہ مطلب سمجھ لینا کہ وہ کافروں کو بھی جہنم سے نکال دے گا یہ اللہ تعالی ہی کے قانون کے خلاف ہے۔

فقہ میں مرتد کا حکم معتبر قدیم کتب سے

مرتد کے بارے میں واضح ہے کہ اگر وہ توبہ نہ کرے اور کفر کی حالت میں مرے تو اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ (حوالہ: الہدایہ، کتاب الردة)

المرتد إذا مات على الكفر فهو من أهل النار” ترجمہ: مرتد اگر کفر پر مرے تو وہ اہلِ جہنم میں سے ہے۔ (حوالہ: فتاویٰ ہندیہ/عالمگیری، کتاب الردة، جلد ۲)

دارالعلوم دیوبند، دارالافتاء کراچی، جامعہ بنوری ٹاؤن اور دیگر معتبر مراجع کے فتاویٰ میں یہ بات مسلّم ہے۔

ارتداد کبیرہ ترین گناہ ہے۔ کفر کی حالت میں موت واقع ہو تو واضح شرعی حکم جہنم ہے، ایسے شخص کے لئے دعائے مغفرت کی بھی اجازت نہیں۔

آپ کی صورتحال میں ارتداد (دین اسلام کو چھوڑ دینے) کا حکم

ذہنی پریشانی کی وجہ سے یا پھر معاشی تنگی اور دیگر مصائب و آلام کی وجہ سے اگر صرف ذہن کے اندر خیالات اور وساوس آئیں تو اس پر اللہ تعالی نے کوئی پکڑ نہیں رکھی۔ یعنی اگر اس کی وجہ سے کبھی مایوسی ہونے لگے اور اللہ تعالی کے بارے میں خدانخواستہ کچھ غلط وساوس بھی آنے لگیں، جیسے کہ: اللہ تعالی نے ہمیں اکیلا کیوں چھوڑ دیا؟ یا اس سے بڑھ کر کفریہ حد تک کے بھی وساوس ہوں، تو بھی شریعت اس کے اوپر کفر کا اور ارتداد کا حکم نہیں لگاتی، جب تک ان وساوس کو دل سے قبول نہ کر لے یا زبان سے ان وساوس کو ادا نہ کر دے۔ اور نہ ہی اس پر مواخذہ ہوگا، انشاءاللہ۔

لیکن اگر کسی نے اس دباؤ کے اندر اور اس کیفیت کے اندر ہوش و حواس میں زبان سے یہ کلمات ادا کر دیے یا پھر دل سے ان پر یقین کر لیا تو اس صورت میں ایمان کا اہم رکن تصدیق قلبی یا اقرار زبانی کہ مفقود ہو جانے کی وجہ سے ایمان جاتا رہے گا اور یہ بندہ مرتد اور کافر ہو جائے گا اور اگر اسی حالت میں مر گیا تو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں جائے گا۔

اللہ تعالی کی رحمت بے پناہ ہے لیکن یہ رحمت دنیا کے اندر عام ہے کہ ہر کافر اور مسلمان کو ملتی ہے لیکن آخرت میں یہ صرف اور صرف ایمان والوں کو ہی ملے گی۔ یہ بات قران و حدیث سے واضح طور پر ثابت ہے۔

ہاں البتہ مجنون اور مفقود العقل اور بے ہوش ایسا کہ جس کا دماغ اس وقت کام نہ کر رہا ہو اس کا حکم الگ ہے۔

جو مرتد ہوگیا یا اس نے اسلام چھوڑنے کا ارادہ کرلیا ہے وہ کیا کرے؟

جو شخص اسلام کو چھوڑ چکا ہے یا پھر وہ چھوڑنے کا ارادہ کر چکا ہے سب سے پہلے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے اس عمل پر توبہ کرے۔ توبہ کا مطلب یہ ہے کہ اس عمل سے سب سے پہلے الگ ہو جائے یعنی یہ ارادہ ترک کر دے اور اگر مرتد ہو چکا ہے تو فوری طور پر کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ معنی کے سمجھ کے ساتھ پڑھے۔ اور ضروری ایمانیات کی تصدیق کر کے تجدید ایمان کرے۔ اگر نکاح کر رکھا تھا تو دوبارہ نکاح ضروری ہوگا کیونکہ ارتداد سے نکاح باطل ہو جاتا ہے۔ اگر اس کے پاس حج کی وسعت ہو تو اگرچہ اس نے پہلے حج کر بھی لیا ہو تو وہ ارتداد کی وجہ سے ضائع ہو گیا دوبارہ حج بھی کرے۔ ارتداد کی جو کچھ وجوہات پہلے پیش آئی تھیں انہیں دور کرنے کی مکمل کوشش کرے۔ اگر کوئی ذہنی بیماری تھی تو کسی اچھے طبیب یا ڈاکٹر سے رجوع کرے۔ اگر کوئی اعتراضات تھے اسلام کے بارے میں خواہ اپنے دماغ کی اختراع ہو یا کسی نے وہ اعتراضات باقاعدہ سکھائے ہوں بذریعہ تقریر یا سوشل میڈیا یا انٹرنیٹ۔ تو ان اعتراضات کو اپنے ذہن سے نکال دے ہاں البتہ آئندہ بچنے کے لیے علم کی غرض سے کسی اہل علم عالم سے اس کے بارے میں رہنمائی ضرور لے۔ آئندہ ایسے تمام عوامل سے خود کو دور رکھے جو کہ ارتداد کا پیش خیمہ ہو سکتے ہیں۔ جیسے ناقابل اعتبار لوگوں سے دین سیکھنا، جو چیزیں قرآن اور حدیث کے اندر واضح بیان کر دی گئی ہیں ان میں خوامخواہ عقل لڑانا، جیسے اللہ تعالیٰ کی ذات، جنت و جہنم، عذاب قبر وغیرہ۔ دعا کرتے رہیں اور اللہ تعالی سے آئندہ کے لیے استقامت اور استقلال مانگتے رہیں۔ اہل اللہ اور علماء صلحاء کی صحبت میں بیٹھیں۔ کیونکہ حدیث پاک ہے: المرء علی دین خلیلہ یعنی:آدمی اپنے دوست کے دین پر ہی ہوتا ہے۔ سو صحبت اہل اللہ آپ کو بھی اہل اللہ بنائے گی، اور کافروں اور گنہگاروں کی صحبت کافر اور گنہگار بنائے گی۔
Share it :
innov8ive.lab@gmail.com
innov8ive.lab@gmail.com

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Popular Categories

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Ask a Mufti Online

Get clear, reliable answers to your Shariʿah questions from qualified scholars.

Drop Your Question Here!

Newsletter

Get free tips and resources right in your inbox, along with 10,000+ others

Latest Post

کسی مسلمان مرد و عورت کا اسلام کو چھوڑ دینا یعنی مرتد ہو جانا یہ ایک ایسا گناہ ہے کہ اگر بغیر توبہ کیے وہ مر گیا تو وہ سیدھا جہنم میں جائے گا۔ پھر چاہے اسلام چھوڑنے کی وجہ اس کا ذہنی خلفشار (ذہنی دباو اور پریشانی) ہو یا پھر حالات کی خرابی یا کوئی اور ایسی وجوہات ہوں جس کی بنا پر اس نے اسلام کو چھوڑ دیا ہو۔ اس میں کسی طرح کا کوئی عذر عنداللہ قابل قبول نہیں ہے۔ اس پر قران کریم کی واضح ایات احادیث اور اجماع امت یعنی ساری امت کے اکابرین کا اجماع موجود ہے تفصیلات ۔کے لیے مکمل جواب پڑھیں۔
جنوری 30, 2026
جنگی حالات میں ایمان کی کمزوری | اسلامی رہنمائی
دسمبر 15, 2025
شراب پینے والی روم میٹ کے ساتھ رہنا: شرعی حکم کیا ایسے گھر میں رہنا جہاں روم میٹ نجی طور پر شراب پیتی ہو، عبادت، رزق اور روحانیت پر اثر ڈالتا ہے؟ مکمل فقہی رہنمائی۔
دسمبر 15, 2025
حجاب اور شدید ذہنی دباؤ: کیا شریعت میں وقتی رخصت کی گنجائش ہے؟
دسمبر 15, 2025
عدالتی خلع کا شرعی حکم | شوہر کی رضامندی کے بغیر خلع معتبر ہے یا نہیں؟
دسمبر 15, 2025
دسمبر 15, 2025

Get In Touch

Newsletter

Subscription Form

Latest Posts

کسی مسلمان مرد و عورت کا اسلام کو چھوڑ دینا یعنی مرتد ہو جانا یہ ایک ایسا گناہ ہے کہ اگر بغیر توبہ کیے وہ مر گیا تو وہ سیدھا جہنم میں جائے گا۔ پھر چاہے اسلام چھوڑنے کی وجہ اس کا ذہنی خلفشار (ذہنی دباو اور پریشانی) ہو یا پھر حالات کی خرابی یا کوئی اور ایسی وجوہات ہوں جس کی بنا پر اس نے اسلام کو چھوڑ دیا ہو۔ اس میں کسی طرح کا کوئی عذر عنداللہ قابل قبول نہیں ہے۔ اس پر قران کریم کی واضح ایات احادیث اور اجماع امت یعنی ساری امت کے اکابرین کا اجماع موجود ہے تفصیلات ۔کے لیے مکمل جواب پڑھیں۔
کیا اسلام کو چھوڑ دینے والے (مرتد) کا جہنمی ہونا طےہے؟
جنوری 30, 2026
Read More »
جنگی حالات میں ایمان کی کمزوری | اسلامی رہنمائی
جنگی حالات میں ایمان کی کمزوری محسوس ہونا
دسمبر 15, 2025
Read More »
شراب پینے والی روم میٹ کے ساتھ رہنا: شرعی حکم کیا ایسے گھر میں رہنا جہاں روم میٹ نجی طور پر شراب پیتی ہو، عبادت، رزق اور روحانیت پر اثر ڈالتا ہے؟ مکمل فقہی رہنمائی۔
شراب پینے والے کے ساتھ رہنا
دسمبر 15, 2025
Read More »

Quick Menu

  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

Follow Us

Facebook Instagram Whatsapp Envelope Youtube

contact

  • deenalfurqan@gmail.com

© Copyright, deenalfarqan.com. All rights reserved.