جو شخص اسلام کو چھوڑ چکا ہے یا پھر وہ چھوڑنے کا ارادہ کر چکا ہے سب سے پہلے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے اس عمل پر توبہ کرے۔
توبہ کا مطلب یہ ہے کہ اس عمل سے سب سے پہلے الگ ہو جائے یعنی یہ ارادہ ترک کر دے اور اگر مرتد ہو چکا ہے تو فوری طور پر کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ معنی کے سمجھ کے ساتھ پڑھے۔ اور ضروری ایمانیات کی تصدیق کر کے تجدید ایمان کرے۔
اگر نکاح کر رکھا تھا تو دوبارہ نکاح ضروری ہوگا کیونکہ ارتداد سے نکاح باطل ہو جاتا ہے۔
اگر اس کے پاس حج کی وسعت ہو تو اگرچہ اس نے پہلے حج کر بھی لیا ہو تو وہ ارتداد کی وجہ سے ضائع ہو گیا دوبارہ حج بھی کرے۔
ارتداد کی جو کچھ وجوہات پہلے پیش آئی تھیں انہیں دور کرنے کی مکمل کوشش کرے۔
اگر کوئی ذہنی بیماری تھی تو کسی اچھے طبیب یا ڈاکٹر سے رجوع کرے۔
اگر کوئی اعتراضات تھے اسلام کے بارے میں خواہ اپنے دماغ کی اختراع ہو یا کسی نے وہ اعتراضات باقاعدہ سکھائے ہوں بذریعہ تقریر یا سوشل میڈیا یا انٹرنیٹ۔ تو ان اعتراضات کو اپنے ذہن سے نکال دے ہاں البتہ آئندہ بچنے کے لیے علم کی غرض سے کسی اہل علم عالم سے اس کے بارے میں رہنمائی ضرور لے۔
آئندہ ایسے تمام عوامل سے خود کو دور رکھے جو کہ ارتداد کا پیش خیمہ ہو سکتے ہیں۔ جیسے ناقابل اعتبار لوگوں سے دین سیکھنا، جو چیزیں قرآن اور حدیث کے اندر واضح بیان کر دی گئی ہیں ان میں خوامخواہ عقل لڑانا، جیسے اللہ تعالیٰ کی ذات، جنت و جہنم، عذاب قبر وغیرہ۔
دعا کرتے رہیں اور اللہ تعالی سے آئندہ کے لیے استقامت اور استقلال مانگتے رہیں۔
اہل اللہ اور علماء صلحاء کی صحبت میں بیٹھیں۔ کیونکہ حدیث پاک ہے: المرء علی دین خلیلہ یعنی:آدمی اپنے دوست کے دین پر ہی ہوتا ہے۔
سو صحبت اہل اللہ آپ کو بھی اہل اللہ بنائے گی، اور کافروں اور گنہگاروں کی صحبت کافر اور گنہگار بنائے گی۔