Language Block
This page is also available in Urdu language.
یہ صفحہ اردو میں بھی موجود ہے۔ زبان کی تبدیلی کے لیے نیچے بٹن دبائیں۔
سوال:
شافعی مذہب کی پیروی کرتی ہوں:
- مجھے وضو کے بارے میں وسوسہ ہے خاص طور پر پیروں کے دھلنے یا رہ جانے سے متعلق۔
- مجھے حرکت کرنے پر سیال کا اخراج ہوتا ہے (سچ کہوں تو مجھے زیادہ حرکت کرنے یا دوڑنے سے ڈر لگتا ہے تاکہ اس کے اخراج سے بچ سکوں) کیا یہ وضو توڑ دیتا ہے؟
- میرا حیض عام طور پر سات مکمل دن یا آٹھویں دن کے شروع یا آدھے تک ہوتا ہے تاکہ میں یقین کر سکوں، لیکن گزرے ہوئے حیض میں ساتویں دن کے آخر میں مجھے یاد ہے کہ میں پانی دیکھ رہی تھی، آٹھویں دن دوپہر یا عصر کے وقت میں کبھی کبھی پانی مائل خون دیکھتی تھی شاید جب میں صاف کرتی تھی، پھر میں صرف بغیر رنگ کا پانی دیکھنے لگی۔ رات کو میں نے غسل کیا اور وضو کیا اور نماز پڑھی اور اگلے دن روزہ رکھا۔ اگلے دن میں نے گاڑھے اخراجات دیکھے، معلوم نہیں کہ وہ کیا تھا۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْم
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ، اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
ایک بات کی وضاحت شروع میں ہی کردی جاتی ہے کہ ہمارے علماء و مفتیان کرام فقہ حنفی کو اچھی طرح جانتے اور سمجھتے ہیں۔ باقی فقہیں جو معتبر آئمۃ کرام سے ثابت ہیں ان کو برحق جانتے ہیں لیکن ان پر ہمیں عبور نہیں۔ لہٰذا اس سوال کا جواب ہم نے خود شافعی مصادرات کی بنیاد پر نہیں بلکہ دیگر شافعی مسلک کے فتاوی وغیرہ کی بنیاد پر لکھا ہے اور ساتھ حوالے بھی دیے ہیں۔ اگر مزید معلومات مطلوب ہوں تو شافعیہ کے علماء و مفتیانِ کرام سے رابطہ کرنا زیادہ بہتر ہے۔
1) وضو میں وسوسہ — آپ کیا کریں؟
(الف) شافعی فقہ میں وضو کا “کم از کم صحیح” طریقہ یاد رکھیں
شافعیہ کے نزدیک وضو کے فرائض/ارکان میں (خلاصہ):
- نیت (چہرہ دھوتے وقت)
- چہرہ دھونا
- ہاتھ کہنیوں سمیت دھونا
- سر کا مسح
- پاؤں ٹخنوں سمیت دھونا
- اسی ترتیب (Order) وضو کرنا (یعنی چہرے سے پہلے اگر ہاتھ دھوئے تو شافعی فقہ کے مطابق وضو نہیں ہوگا، مثلاً)
(SeekersGuidance)
یعنی پاؤں کے بارے میں آپ پر اتنا ہی لازم ہے کہ ٹخنوں سمیت پورا پاؤں دھل جائے؛ غیر ضروری بار بار دھونا لازم نہیں۔
(ب) “وسوسہ” کی شرعی/نفسیاتی پہچان اور علاج
آپ جو بیان کر رہی ہیں (خاص طور پر بار بار شک آنا) اسے اہلِ علم نے waswasa / religious scrupulosity کہا ہے، اور شافعی فتاویٰ میں اس کا بنیادی علاج یہی بتایا گیا ہے کہ ان وسوسوں کو نظر انداز کیا جائے؛ یعنی ان کو جھٹکیں بھی نہیں اور ان پر یقین بھی نہ کریں بلکہ بلکل اس طرف دھیان ہی نہ کریں، ورنہ یہ بڑھتے بڑھتے عبادت مشکل بنا دیتے ہیں۔ (SeekersGuidance)
(ج) وضو میں پاؤں دھونے کا “صحیح عملی” طریقہ
- نل کے نیچے پاؤں رکھ کر ایک مرتبہ اچھی طرح پانی بہا دیں اور ہاتھ سے ہلکا سا پورا پاؤں (اوپر/نیچے/ٹخنے) مل دیں۔
- انگلیوں کے بیچ پانی پہنچانے کے لیے ایک دفعہ انگلی گزار دینا (خلال کرلینا) کافی (زیادہ کھود کرید کرکے چیک نہیں کرنا)۔
- پھر خود کو “باوضو” سمجھیں: بار بار “شاید رہ گیا” کے وسوسے کی بنیاد پر وضو نہ دہرائیں۔ (وسوسہ کی صورت میں یہی طریقہ اہلِ علم بتاتے ہیں)
(SeekersGuidance)
(د) اگر دورانِ وضو “واقعی” شک ہو (وسوسہ نہیں)
شافعی متون میں یہ بھی ملتا ہے کہ اگر وضو کے دوران کسی عضو کے دھونے میں شک ہو تو اسے دھونا اور آگے کے اعضاء کو ترتیب کے ساتھ مکمل کرنا لازم ہوتا ہے۔ (LAW BY AHMAD IBN NAQIB AL-MISRI)
یعنی اگر آپ وضو میں کوئی عضو واقعتًا خشک رہ گیا، اگرچہ وہ بہت معمولی ہی ہو تو شرعًا وہ ایسا ہے گویا دھلا ہی نہیں اور جب وضو مکمل کرنے بعد آپ نے اسے دھویا تو فقہ شافعی کے مطابق چونکہ ترتیب سے اعضاء کا دھونا فرض ہے تو اس کے بعد والے اعضاء ترتیب وار دوبارہ دھونا لازم ہوگا، ورنہ شافعیہ کے مطابق وضو درست نہیں ہوگا۔
لیکن چونکہ آپ نے خود “وسوسہ” بتایا ہے، اس لیے آپ کے لیے اصل علاج یہی ہے کہ اس شک کو وسوسہ سمجھ کر کاٹ دیں۔ (SeekersGuidance)
2) حرکت/دوڑنے سے سیال (رطوبتِ فرج) — کیا یہ وضو توڑ دیتا ہے؟
یہ مسئلہ فقہِ شافعی میں تفصیل سے ہے، اور آپ کے بیان (حرکت پر اخراج) میں عموماً یہی “رطوبتِ فرج” آتی ہے:
رطوبت کی اقسام (شافعی فتاویٰ کے مطابق)
شافعیہ میں ایک اہم تفصیل یوں بیان کی جاتی ہے:
- باہر کی سطح کی عام نمی/صاف رطوبت (جو بعض کے نزدیک “دیوارِ فرج کی پسینہ جیسی” ہو): یہ پاک ہے یعنی کپڑے پر لگنے سے کپڑا ناپاک نہیں ہوتا جیسے پسینہ سے نہیں ہوتا اور بعض شافعی محققین کے نزدیک وضو بھی نہیں توڑتی۔ (IslamQA)
- ایک اور صاف/سفید رطوبت جو اندر سے نکل کر باہر آئے: یہ پاک ہے مگر خارج ہونے پر وضو ٹوٹ جاتا ہے (یہ تفصیل ابنِ حجر ہیتمی وغیرہ کے حوالے سے مذکور ہے)۔ (IslamQA)
- گاڑھی/چپچپی/لوتھڑے جیسی رطوبت: اسے بعض شافعی کتب میں ناپاک بھی کہا گیا ہے اور یہ وضو بھی توڑتی ہے۔ (IslamQA)
آپ کے سوال کا واضح جواب
- اگر وہ سیال واقعۃً اندر سے نکل کر باہر آتا ہے تو شافعی فقہ کے مطابق وضو ٹوٹ جائے گا۔ (IslamQA)
- اگر صرف باہر کی نمی/ڈیمپنَس ہو (یعنی “نکلنا” ثابت نہ ہو) تو اصل یہ ہے کہ آپ وضو والی ہی سمجھی جائیں—جب تک آپ کو یقین نہ ہو کہ واقعی کچھ خارج ہوا ہے۔ یعنی صرف اس شک پر کہ کچھ رطوبت تو نہیں نکلی آپ کا وضو ختم نہیں ہوگا۔
(IslamQA)
مسلسل/بار بار مواد کا اخراج ہو تو کیا کریں؟
- شافعی فتاویٰ میں بار بار رطوبت/استحاضہ جیسی کیفیت میں طریقہ یہ بتایا جاتا ہے کہ نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد صفائی کریں، پیڈ/ڈریسنگ رکھیں، پھر وضو کر کے فوراً نماز پڑھ لیں۔ (IslamQA)
- اور سب سے اہم: آپ پر ہر وقت “چیک کرتے رہنا” لازم نہیں؛ یقین کے بغیر وضو ٹوٹا ہوا نہ سمجھیں۔ (IslamQA)
3) حیض کے دن 7–8 میں “پانی” پھر “پانی مائل خون/کدورت” — پاکی کب سمجھی جائے؟ نماز/روزہ کا کیا حکم؟
(الف) شافعی اصول (شافعی مکتبہ فکر کے نزدیک حیض کی مدت اور معیار)
شافعیہ کے مطابق:
- حیض کی کم از کم مدت: 24 گھنٹے (وقفے وقفے سے ہو تو مجموعہ 24 گھنٹے)
- حیض کی زیادہ سے زیادہ مدت: 15 دن
- دو حیضوں کے درمیان کم از کم طُہر: 15 دن
(IslamQA)
(ب) پاکی کی علامت کیا ہے؟
شافعی فتاویٰ میں پاکی کی پہچان عموماً یہ بتائی جاتی ہے کہ:
- یا تو بالکل خشکی ہو (کپڑا/کاٹن صاف نکلے)،
- یا سفیدی/صاف علامتِ طہر (بعض خواتین کو واضح “سفید” نظر آتا ہے)۔
(IslamQA)
اور اگر کوئی بھی رنگ (سرخ/بھورا/زرد/کدورتی وغیرہ) موجود ہو تو وہ “خون کی علامت” شمار ہوگی؛ اسی لیے شافعی دارالافتاء میں جواب میں کہا گیا ہے کہ نماز شروع کرنے کے لیے رنگ کے آثار ختم ہونے کا انتظار کیا جائے۔
(SeekersGuidance)
(ج) اگر خون/کدورت رک کر پھر 15 دن کے اندر واپس آ جائے
- شافعی کتب/فتاویٰ کے مطابق اگر خون کم از کم 15 دن کی پاکی سے پہلے دوبارہ آ جائے تو وہ (اکثر صورتوں میں) اسی حیض کا تسلسل سمجھا جاتا ہے۔
(IslamQA)
- اسی لیے شافعی مثالوں میں صاف لکھا ہے کہ اگر بعد میں پتا چلے کہ “وقفہ” دراصل حیض کے اندر تھا تو اس وقفے میں پڑھی نماز/رکھا روزہ معتبر نہیں رہتا۔
(IslamQA)
آپ کی صورت حال پر شافعی اصول کی عملی تطبیق
آپ نے کہا:
- عموماً 7 دن مکمل، یا 8ویں کے شروع/آدھے تک
- پچھلے حیض میں 7ویں کے آخر میں “پانی”
- 8ویں دن دوپہر/عصر کے وقت کبھی کبھی “پانی مائل خون”
- پھر بے رنگ پانی، رات کو غسل، نماز، اگلے دن روزہ؛ پھر اگلے دن گاڑھا اخراج
شافعی قاعدہ کے مطابق آپ کے لیے فیصلہ کن نقطہ یہ ہے:
- اگر 8ویں دن جو “پانی مائل خون/رنگ” تھا وہ واقعی رنگ/خون تھا تو آپ اس وقت تک حیض ہی میں شمار ہوں گی جب تک خشکی یا واضح علامتِ طہر یعنی سفید/بے رنگ رطوبت/پانی نہ آنے لگے۔ (SeekersGuidance)
- اگر آپ نے غسل اس سے پہلے کر لیا (یعنی رنگ مکمل ختم ہونے سے پہلے)، پھر معلوم ہوا کہ حیض باقی تھا، تو:
- اس دوران کی نمازیں ویسے بھی حیض میں لازم نہیں ہوتیں
- لیکن جو روزہ رکھا وہ معتبر نہیں ہوگا اور اس کی قضا لازم ہوگی۔
(IslamQA)
- اگر آپ نے غسل کے وقت واقعی پاکی کی علامت پا لی تھی (خشکی/صاف) اور اس کے بعد کوئی رنگ نہیں آیا تو غسل/نماز/روزہ درست ہیں—بعد میں آنے والی “گاڑھی رطوبت” اگر بےرنگ ہوتو وہ حیض شمار نہیں ہوگی البتہ فرج سے نکلنے والی ہر چیز حتی کہ بیماری کی وجہ سے عورت کے آگے نکلنے والی ہوا سے بھی شافعی مسلک کے علماء کے نزدیک وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
(IslamQA)
(ہ) حیض سے پاک ہونے پر نماز کی فرضیت کا حکم شافعی مسلک کے مطابق
شافعی مذہب میں اگر عورت کسی نماز کے وقت کے اندر پاک ہو تو بعض صورتوں میں اسی وقت کی نماز (اور جو اس کے ساتھ جمع ہو سکتی ہے، اس کی) ادائیگی لازم بتائی گئی ہے (مثلاً عصر میں پاکی ہو تو ظہر+عصر وغیرہ)۔
(IslamQA)
وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ