Facebook Instagram Whatsapp Youtube Envelope
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Menu
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Change A Life
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
اگر عادت مقرر نہ ہو اور خون 3 دن سے ہو تو شرعی حکم کیا بنتا ہے؟ حیض کی مدت، استحاضہ میں وضو، اور ضروری احتیاطیں۔
Language Block

This page is also available in Urdu language.

یہ صفحہ اردو میں بھی موجود ہے۔ زبان کی تبدیلی کے لیے نیچے بٹن دبائیں۔

Read in English اردو میں پڑھیں

اصل پہلا سوال:

مجھے حیض سے متعلق معلوم کرنا ہے، میں نہیں جانتی کہ اسے کیا کہتے ہیں مجھے ہونے والا مواد سرخ بدبو دار ہے اور سرخ سے کتھئی ہوتا جا رہا ہے۔ یہ حیض ہے یا استحاضہ ہے؟

تنقیح (سائلہ سے پوچھی گئی تفصیلات اور سائلہ کے جوابات) :

آپ کی خاص صورت میں قطعی حکم دینے کے لیے یہی تفصیل ضروری ہے کہ:

  1. پچھلا حیض کس تاریخ کو ختم ہوا؟
    19/11/2025
  2. اس کے بعد کتنے دن پاکی رہی؟
    تب سے اب تک پاکی ہی رہی
  3. آپ کی مقررہ عادت کتنے دن کی ہے؟
    کوئی عادت مقرر نہیں ہے۔
  4. اور موجودہ سرخ/کتھئی رطوبت کتنے دن سے ہے-
    تین دن سے
  5. اور خالص سفیدی آئی ہے یا نہیں؟
    سفیدی نہیں آئی

انہیں تفصیلات کی بنیاد پر آپ کو آنے والے خون یا مواد پر حیض یا استحاضہ کا حکم حتمی طور پر لگایا جاسکتا ہے۔


جواب:

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْم
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ، اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

1) حیض اور استحاضہ سے متعلق بنیادی اصول (فقہ حنفی کی کتبِ فقہ/فتاویٰ کی رو سے)

  1. شرعی حکم: تین دن تین راتیں (72 گھنٹے)، اس سے کم ہو تو حیض نہیں بلکہ استحاضہ ہے۔ (Banuri University)
  2. حیض کی زیادہ سے زیادہ مدت: دس دن۔
  3. دو حیضوں کے درمیان کم از کم پاکی (طُہر): پندرہ دن۔
  4. بھورا/کدورتی رنگ (اور اسی طرح مختلف رنگ) ایامِ حیض میں حیض ہی شمار ہوتا ہے، اور پاکی تب سمجھی جائے گی جب پیڈ/کپڑا بالکل سفید/صاف آئے۔

2) آپ کی بیان کردو صورت حال پر حیض کا شرعی حکم

کیا یہ حیض ہے؟

جی ہاں — کیونکہ 19/11/2025 کے بعد آپ کی پاکی پندرہ دن سے کہیں زیادہ رہی ہے، اس لیے اب جو خون/رنگین مواد آیا ہے وہ نیا حیض ہی بنے گا۔

اب فیصلہ مدت سے ہوگا:

(الف) اگر یہ اخراج 72 گھنٹے (تین دن تین راتیں) پورے کر لے یا پورے کرچکا ہے

تو شروع ہونے کے وقت سے لے کر بند ہونے تک (اس میں سرخی سے کتھئی ہونا بھی شامل ہے) سب حیض ہوگا، بشرطیکہ یہ 10 دن سے پہلے بند ہوجائے۔

شرعی حکم: ان دنوں میں نماز/روزہ ادا نہیں کرسکتے، اور پاکی حاصل ہونے پر غسل کر کے نمازیں تو معاف ہونگی لیکن روزوں کی قضا لازم ہوگی، لہِذا اسے جلد از جلد قضا کریں۔

(ب) اگر یہ اخراج 72 گھنٹے پورے ہونے سے پہلے بند ہو جائے

تو یہ حیض نہیں بلکہ استحاضہ ہوگا۔ (darulifta-deoband.com)

شرعی حکم: نماز/روزہ لازم ہوں گے، اور اگر آپ نے ان دنوں میں نمازیں چھوڑ دی ہوں تو قضا کرنی ہوگی۔

(ج) اگر یہ اخراج/خون 10 دن سے بڑھ جائے (اور آپ کی “عادت” مقرر نہیں)

تو چونکہ آپ نے بتایا کہ عادت متعین نہیں، اس صورت میں پہلے 10 دن حیض اور اس کے بعد آنے والا خون استحاضہ ہوگا؛ 10 دن پورے ہوتے ہی غسل کر کے نماز شروع کر دیں، چاہے خون جاری ہو۔

3) استحاضہ کی حالت میں عبادت کا طریقہ (خلاصہ)

استحاضہ میں عورت نماز بھی پڑھے گی اور روزے بھی رکھے گی۔ اگر خون مسلسل اس طرح آتا ہو کہ ہر نماز کے وقت میں پاک ہو کر فرض نماز پڑھنے کی مہلت نہیں ملتی تو “معذور” کے حکم میں آکر ہر نماز کے وقت ایک نیا وضو کرے گی؛ ورنہ عام حالت میں خون آنے سے وضو ٹوٹے گا اور دوبارہ وضو کرنا ہوگا۔ (Banuri University)

اگر آپ چاہیں تو آپ صرف یہ دو چیزیں مزید نوٹ کرلیں (اپنے لیے): خون شروع ہونے کا درست وقت (گھنٹہ) اور کیا یہ 72 گھنٹے پورے ہونے سے پہلے رُک گیا یا نہیں—اسی سے آپ کے لیے “حیض یا استحاضہ” کا حکم بالکل واضح ہو جائے گا۔

وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ
Share it :
Marriage
Marriage

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Popular Categories

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Ask a Mufti Online

Get clear, reliable answers to your Shariʿah questions from qualified scholars.

Drop Your Question Here!

Newsletter

Get free tips and resources right in your inbox, along with 10,000+ others

Latest Post

مارچ 23, 2026
شوہرِ اول کے زندہ ہونے کی صورت میں دوسرا نکاح: خلع، فسخِ نکاح اور موجودہ شادی کا شرعی حکم بغیر طلاق یا معتبر خلع کے دوسری شادی کا حکم: حنفی فقہ کی روشنی میں تفصیلی جواب کیا پہلا نکاح باقی ہو تو دوسرا نکاح درست ہوتا ہے؟ خلع، کنایۂ طلاق اور زبردستی نکاح کا شرعی جائزہ
مارچ 23, 2026
نکاح کے معاملہ میں شریعت نے مرد و عورت کو پسند اور ناپسند کا پورا اختیار دیا ہے اور والدین کو جبر و سختی سے منع کیا ہے۔ دوسری طرف لڑکے اور لڑکی کو بھی ترغیب دی کہ وہ والدین کو اعتماد میں لے کر ہی کوئی قدم اٹھائیں۔ 37 اسی طرح ایک اور فتویٰ میں واضح کیا گیا ہے کہ شادی کے معاملے میں اولاد کی رضامندی لازم ہے، اگر والدین کسی غیرمناسب جگہ رشتہ تجویز کریں تو اولاد کو انکار کا حق ہے، اور اگر وہ اپنی ناگواری کے باوجود محض والدین کی رضاجوئی اور ان کے احترام کی بنا پر اسے قبول کرلے تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک عظیم اجر کی مستحق ہے، لیکن اگر وہ قبول نہ کرے تو والدین کو اس پر جبر کرنے کا کوئی حق نہیں۔
مارچ 19, 2026
مارچ 16, 2026
حنفی فقہ کے مطابق خلع “عقدِ معاوضہ” ہے: واضح ایجاب و قبول کے بغیر خلع/تیسری طلاق نہیں ہوتی۔ خلوتِ صحیحہ کے بعد طلاق عموماً بائن، عدت لازم، اور واپسی کے لیے نیا نکاح ضروری ہوتا ہے۔
مارچ 4, 2026
جوانی میں خواہشِ نفس: استمناء کا حکم اور متبادل طریقے استمناء بالید: علماء کی آراء اور احتیاطی رہنمائی خود لذتی اور بغیر انزال چھیڑ چھاڑ: سوال و جواب
فروری 26, 2026

Get In Touch

Newsletter

Subscription Form

Latest Posts

کریڈٹ کارڈ رکھنا اور استعمال کرنا شرعاً جائز ہے؟ کیا حرام کام کے معاہدہ کے بعد بھی کریڈٹ کارڈ جائز ہے؟
مارچ 23, 2026
Read More »
شوہرِ اول کے زندہ ہونے کی صورت میں دوسرا نکاح: خلع، فسخِ نکاح اور موجودہ شادی کا شرعی حکم بغیر طلاق یا معتبر خلع کے دوسری شادی کا حکم: حنفی فقہ کی روشنی میں تفصیلی جواب کیا پہلا نکاح باقی ہو تو دوسرا نکاح درست ہوتا ہے؟ خلع، کنایۂ طلاق اور زبردستی نکاح کا شرعی جائزہ
شوہرِ اول کے زندہ ہونے کی صورت میں دوسرا نکاح: خلع، فسخِ نکاح
مارچ 23, 2026
Read More »
نکاح کے معاملہ میں شریعت نے مرد و عورت کو پسند اور ناپسند کا پورا اختیار دیا ہے اور والدین کو جبر و سختی سے منع کیا ہے۔ دوسری طرف لڑکے اور لڑکی کو بھی ترغیب دی کہ وہ والدین کو اعتماد میں لے کر ہی کوئی قدم اٹھائیں۔ 37 اسی طرح ایک اور فتویٰ میں واضح کیا گیا ہے کہ شادی کے معاملے میں اولاد کی رضامندی لازم ہے، اگر والدین کسی غیرمناسب جگہ رشتہ تجویز کریں تو اولاد کو انکار کا حق ہے، اور اگر وہ اپنی ناگواری کے باوجود محض والدین کی رضاجوئی اور ان کے احترام کی بنا پر اسے قبول کرلے تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک عظیم اجر کی مستحق ہے، لیکن اگر وہ قبول نہ کرے تو والدین کو اس پر جبر کرنے کا کوئی حق نہیں۔
والدین کی شدید مخالفت کے باوجود پسند کی شادی کرنا کیسا ہے؟ | خاندان نہ مانے تو کیا کروں؟
مارچ 19, 2026
Read More »

Quick Menu

  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

Follow Us

Facebook Instagram Whatsapp Envelope Youtube

contact

  • deenalfurqan@gmail.com
  • +92309 26-88(992)

© Copyright deenalfarqan.com. All rights reserved.