Facebook Instagram Whatsapp Youtube Envelope
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Menu
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Change A Life
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Read in English
اردو میں پڑھیں

عورت کا بغیر محرم سفر

سوال

ہمارے گھر سے ایک غیرشادی شدہ جوان لڑکی دوسرے شہر جاکر اعلی تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اس سلسلے میں میرا سوال یہ ہے کہ:
کیا شریعتِ مطہرہ کی رُو سے کسی عورت یا جوان لڑکی کا تعلیم کے لیے دوسرے شہر یا ملک جانا، جائز ہے؟ اگر وہ تنہا یا صرف عورتوں کے گروپ کے ساتھ سفر کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟ ایسی صورت میں والدین پر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے؟

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب

شرعی مسافت سے کم اور بغیر فتنے کے سفر میں لڑکی کے لیے مشروط گنجائش ہے، مگر محرم کے ساتھ جانا بہرحال محفوظ اور افضل ہے۔ شرعی مسافت کے برابر یا زائد فاصلے کے سفر میں عورت کا بغیر محرم جانا جائز نہیں، چاہے تعلیم کے لئے ہو، کاروبار یا نوکری کے سلسلے میں ہو، یا حتیٰ کہ حج و عمرہ جیسی مبارک اور شعائر اسلام عبادات کے لئے بھی بغیر محرم کے عورت کا جانا بالکل جائز نہیں۔ لہٰذا، جوان لڑکی کو اکیلے، بغیر محرم، دوسرے شہر یا ملک تعلیم کے لیے بھیجنا شرعاً درست نہیں، خصوصاً آج کے فتنہ خیز ماحول میں۔

تفصیلات کے لئے مکمل پڑھیں۔

اصولی بات یہ ہے کہ شریعت نے عورت کو پردہ، عفت اور عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کا حکم دیا ہے، اور اسی پس منظر میں عورت کے سفر کے احکام بھی رکھے گئے ہیں۔

دنیوی یا عصری تعلیم(یعنی جس کی ضرورت دین میں نہ ہو) اس کا اصل حکم:

اگر دنیوی تعلیم شرعی حدود (پردہ، ماحول کی پاکیزگی، ایمان و اخلاق کے تحفظ) کے ساتھ ہو تو بنیادی طور پر عورت کے لیے ایسی تعلیم حاصل کرنا جائز ہے، چاہے وہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ۔ لیکن تعلیم کے لئے یا ویسے کسی اور کام سے بھی سفر کرنے میں الگ شرعی اصول لاگو ہوتے ہیں جن کا لحاظ ضروری ہے۔

عورت سفر کرنے کے شرعی اصول:

شرعی مسافت سفر سے کم فاصلہ ہو (تقریباً 48 میل / 77 کلومیٹر سے کم)

اگر کسی سفر کی مسافت شرعی سفر سے کم ہو: تو ایسی صورت میں عورت کا تنہا یا دوسری بھروسہ مند عورتوں کے ساتھ سفر کرنا فی نفسہ جائز ہو سکتا ہے، بشرطیکہ:1.پردے کا پورا اہتمام ہو۔2.راستے اور منزل میں فتنے (یعنی گناہ، غلط تعلقات، بے حیائی وغیرہ) کا غالب اندیشہ نہ ہو۔ اس کے باوجود زیادہ بہتر اور احتیاط والی صورت یہی ہے کہ عورت حتی المقدور اپنے محرم (شوہر، باپ، بھائی وغیرہ) کے ساتھ ہی سفر کرے، تاکہ حفاظت اور اطمینان زیادہ ہو۔

فتنے کے خطرے کی صورت میں عورت کا بغیر محرم کے سفر کرنا:

اگر فتنے کا خطرہ موجود ہو – مثلاً:

  1. اکیلی ہاسٹل میں رہنا، جہاں کا نظام مکمل محفوظ نہ ہو۔
  2. میل فی میل مخلوط ماحول۔
  3. دین سے دوری کا اندیشہ ہو۔
  4. مرد و عورتوں کی مخلوط کلاسز ہوں اور فتنہ کا اندیشہ ہو۔

تو پھر مسافت کم ہونے کے باوجود ایسے سفر کی اجازت نہیں ہوگی، کیونکہ جہاں فتنے کا غالب گمان ہو وہاں شریعت فتنہ و فساد کا سد باب کرتی ہے۔ کیونکہ جتنا اہم امر ہو لیکن اس کی اہمیت انسان کے تخلیق کے مقصد سے زیادہ اہم نہیں اور مقصدِ تخلیق اللہ کو راضی کرنا ہے اگر کوئی کام اس میں حائل ہوتو شریعت اس سے روک دیتی ہے، حقیقت میں یہ سختی نہیں بلکہ اللہ کی شفقت و رحمت ہے۔

شرعی مسافت سفر کے برابر یا اس سے زیادہ کا سفر (تقریباً 48 میل / 77 کلومیٹر یا اس سے زائد)

اگر سفر اتنا ہو کہ اسے شرعی سفر کہا جائے تو ایسی مسافت پر عورت کا بغیر محرم تنہا سفر کرنا جائز نہیں۔ اور نہ ہی صرف عورتوں کے گروپ، قافلے یا کلاس فیلو لڑکیوں کے ساتھ جانا جائز ہے۔ اس حکم میں سفر کی نوعیت (تعلیم، نوکری، کورس، ٹرپ وغیرہ) سے فرق نہیں پڑتا، حتیٰ کہ حج، عمرہ کا سفر بھی بغیر محرم کے جائز نہیں۔ یہ بہرحال ناجائز ہے۔

 

بغیر محرم کے سفر کرنے کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور پر عورت کو بغیر محرم کے شرعی مسافت کے سفر سے منع فرمایا، بلکہ بعض روایات میں حج جیسے فرض عبادت کے لیے بھی بغیر محرم سفر کی اجازت نہیں دی گئی۔
جب فرض عبادت کے لیے بھی تنہا سفر جائز نہیں تو دنیوی تعلیم، جاب یا دیگر اغراض کے لیے بدرجۂ اولیٰ اجازت نہیں ہوگی۔

والدین کے لیے شرعی ذمہ داری ہے کہ:

  1. اولًا تو اپنی اولاد کو چاہے لڑکا یا لڑکی ہوں ان کو تعلیم خصوصًا دینی تعلیم دینا والدین کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
  2. ان کے ذہن میں بچپن سے اللہ کے بندگی اور اللہ کی فرمانبرداری کے فرض عین ہونے کا تصور اور خیال (یعنی اس بات کا استحضار پیدا کرنا کہ ہرحال میں اللہ کی فرمانبرداری اور اس کے ہر حکم کو پورا کرنا لازم ہے، ورنہ ہماری زندگی کا کوئی مقصد نہیں) والدین کی ذمہ داری ہے۔
  3. پھر جب بیٹی جوان ہو جائے، مناسب اور ہم خیال دیندار رشتہ مل جائے، تو اس کی شادی میں بلاوجہ تاخیر نہ کریں۔
    پھر اگر بیٹی شادی کے بعد اپنے شوہر کے ساتھ مل کر دوسرے شہر یا ملک میں تعلیم حاصل کرنا چاہے، اور شوہر محرم ہونے کی حیثیت سے ساتھ ہو، تو ایسے سفر میں بلا کراہت گنجائش ہے۔ البتہ یہاں بھی پردہ، دینی ماحول اور فتنوں سے بچاؤ کا پورا لحاظ ضروری ہے۔ لیکن بغیر محرم کے کسی بھی صورت میں عورت کا سفر کرنا بھی درست نہیں چہ جائے کہ وہ سالہا سال اکیلی پردیس میں ٹھہرے۔
فقط واللہ اعلم
Share it :
innov8ive.lab@gmail.com
innov8ive.lab@gmail.com

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Popular Categories

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Ask a Mufti Online

Get clear, reliable answers to your Shariʿah questions from qualified scholars.

Drop Your Question Here!

Newsletter

Get free tips and resources right in your inbox, along with 10,000+ others

Latest Post

کسی مسلمان مرد و عورت کا اسلام کو چھوڑ دینا یعنی مرتد ہو جانا یہ ایک ایسا گناہ ہے کہ اگر بغیر توبہ کیے وہ مر گیا تو وہ سیدھا جہنم میں جائے گا۔ پھر چاہے اسلام چھوڑنے کی وجہ اس کا ذہنی خلفشار (ذہنی دباو اور پریشانی) ہو یا پھر حالات کی خرابی یا کوئی اور ایسی وجوہات ہوں جس کی بنا پر اس نے اسلام کو چھوڑ دیا ہو۔ اس میں کسی طرح کا کوئی عذر عنداللہ قابل قبول نہیں ہے۔ اس پر قران کریم کی واضح ایات احادیث اور اجماع امت یعنی ساری امت کے اکابرین کا اجماع موجود ہے تفصیلات ۔کے لیے مکمل جواب پڑھیں۔
جنوری 30, 2026
جنگی حالات میں ایمان کی کمزوری | اسلامی رہنمائی
دسمبر 15, 2025
شراب پینے والی روم میٹ کے ساتھ رہنا: شرعی حکم کیا ایسے گھر میں رہنا جہاں روم میٹ نجی طور پر شراب پیتی ہو، عبادت، رزق اور روحانیت پر اثر ڈالتا ہے؟ مکمل فقہی رہنمائی۔
دسمبر 15, 2025
حجاب اور شدید ذہنی دباؤ: کیا شریعت میں وقتی رخصت کی گنجائش ہے؟
دسمبر 15, 2025
عدالتی خلع کا شرعی حکم | شوہر کی رضامندی کے بغیر خلع معتبر ہے یا نہیں؟
دسمبر 15, 2025
دسمبر 15, 2025

Get In Touch

Newsletter

Subscription Form

Latest Posts

کسی مسلمان مرد و عورت کا اسلام کو چھوڑ دینا یعنی مرتد ہو جانا یہ ایک ایسا گناہ ہے کہ اگر بغیر توبہ کیے وہ مر گیا تو وہ سیدھا جہنم میں جائے گا۔ پھر چاہے اسلام چھوڑنے کی وجہ اس کا ذہنی خلفشار (ذہنی دباو اور پریشانی) ہو یا پھر حالات کی خرابی یا کوئی اور ایسی وجوہات ہوں جس کی بنا پر اس نے اسلام کو چھوڑ دیا ہو۔ اس میں کسی طرح کا کوئی عذر عنداللہ قابل قبول نہیں ہے۔ اس پر قران کریم کی واضح ایات احادیث اور اجماع امت یعنی ساری امت کے اکابرین کا اجماع موجود ہے تفصیلات ۔کے لیے مکمل جواب پڑھیں۔
کیا اسلام کو چھوڑ دینے والے (مرتد) کا جہنمی ہونا طےہے؟
جنوری 30, 2026
Read More »
جنگی حالات میں ایمان کی کمزوری | اسلامی رہنمائی
جنگی حالات میں ایمان کی کمزوری محسوس ہونا
دسمبر 15, 2025
Read More »
شراب پینے والی روم میٹ کے ساتھ رہنا: شرعی حکم کیا ایسے گھر میں رہنا جہاں روم میٹ نجی طور پر شراب پیتی ہو، عبادت، رزق اور روحانیت پر اثر ڈالتا ہے؟ مکمل فقہی رہنمائی۔
شراب پینے والے کے ساتھ رہنا
دسمبر 15, 2025
Read More »

Quick Menu

  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

Follow Us

Facebook Instagram Whatsapp Envelope Youtube

contact

  • deenalfurqan@gmail.com

© Copyright, deenalfarqan.com. All rights reserved.