Facebook Instagram Whatsapp Youtube Envelope
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Menu
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Change A Life
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
تقلید

اختلافِ آئمہ — ایک علمی و تحقیقی جائزہ

  • فروری 18, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com
  • No Responses
  • فروری 18, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com
Read in English
اردو میں پڑھیں
اسلام کی تاریخ میں ایک ایسا سوال جو عام مسلمانوں کے ذہنوں میں بار بار اٹھتا ہے وہ یہ ہے کہ جب قرآن کریم اور احادیثِ نبویہ ﷺ تمام مسلمانوں کے لیے یکساں ہیں، تو پھر امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ کے درمیان مسائل میں اختلاف کیوں پایا جاتا ہے؟ کیا ان میں سے کوئی غلط ہے؟ کیا یہ اختلاف اسلام کے لیے نقصان دہ ہے؟ اور ایک عام مسلمان کو کیا کرنا چاہیے؟

اختلافِ آئمہ — ایک علمی و تحقیقی جائزہ

حامداً و مصلياً

اسلام کی تاریخ میں ایک ایسا سوال جو عام مسلمانوں کے ذہنوں میں بار بار اٹھتا ہے وہ یہ ہے کہ جب قرآن کریم اور احادیثِ نبویہ ﷺ تمام مسلمانوں کے لیے یکساں ہیں، تو پھر امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ کے درمیان مسائل میں اختلاف کیوں پایا جاتا ہے؟ کیا ان میں سے کوئی غلط ہے؟ کیا یہ اختلاف اسلام کے لیے نقصان دہ ہے؟ اور ایک عام مسلمان کو کیا کرنا چاہیے؟
یہ مضمون انہی سوالات کا علمی، مدلل اور جامع جواب پیش کرتا ہے۔

پہلا حصہ: آئمہ مجتہدین کے درمیان اختلاف کیوں ہے؟ — بنیادی اسباب

۱. نصوص کی نوعیت اور ان کا فہم

قرآن و حدیث کے تمام الفاظ ایک جیسی وضاحت کے ساتھ نہیں آتے۔ علمائے اصول نے نصوص کی دو بنیادی قسمیں بیان کی ہیں:

۱۔قطعی الدلالۃ — وہ نص جس کا معنی بالکل واضح اور متعین ہو، جیسے نماز فرض ہے، سود حرام ہے۔ ان میں اختلاف نہیں۔
۲۔ظنی الدلالۃ — وہ نص جس کے ایک سے زیادہ معنی ممکن ہوں۔ یہیں سے اجتہاد اور اختلاف کی گنجائش پیدا ہوتی ہے۔

مثال قرآن میں ہے:
وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ (البقرة: 228)
لفظ "قُرُوء” کے دو معنی عربی میں مستعمل ہیں: حیض بھی اور طہر بھی۔ اسی ایک لفظ کی وجہ سے احناف اور شوافع میں عدت کا حساب مختلف ہوگیا — اور دونوں کے پاس لغوی و شرعی دلیل موجود ہے۔

 

۲. احادیث کا پہنچنا اور نہ پہنچنا

صحابہ کرامؓ مختلف علاقوں میں پھیل گئے تھے۔ ہر امام کو وہی احادیث دستیاب تھیں جو ان تک پہنچیں۔ ممکن ہے کسی مسئلے میں امام مالکؒ کے پاس وہ حدیث نہ پہنچی ہو جو امام احمدؒ تک پہنچی۔

امام شافعیؒ نے خود فرمایا:
"إذا صح الحديث فهو مذهبي” یعنی جب حدیث صحیح ثابت ہو جائے تو وہی میرا مذہب ہے۔
امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور دیگر آئمہ کرام سے بھی مختلف الفاظ میں یہی بات منقول ہے تو گویا یہ متفق علیہ بات ہے کہ ان کے ہاں حدیث کے مقابلے میں کسی کے قول کی کوئی اہمیت نہیں تھی البتہ اس میں اصول و قواعد کا لحاظ کرنا ضروری ہے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آئمہ کا اختلاف نفسِ حدیث سے نہیں بلکہ اس کے پہنچنے، اس کی صحت کے درجے، اور اس کے فہم سے متعلق ہے۔

۳. احادیث کی صحت و ضعف کا اختلاف

ایک ہی حدیث کے بارے میں محدثین کی آراء مختلف ہو سکتی ہیں۔ کوئی اسے صحیح کہے، کوئی حسن، کوئی ضعیف۔ جب بنیادی مواد کی درجہ بندی میں فرق ہو تو نتائج میں فرق لازمی ہے۔

۴. ناسخ و منسوخ کا علم

بعض احادیث بعد میں آنے والی احادیث سے منسوخ ہو گئیں۔ اگر کسی امام کو ناسخ حدیث نہیں ملی اور منسوخ پر انہوں نے فتویٰ دیا، تو یہ ان کی غلطی نہیں بلکہ معلومات کی حد ہے۔

۵. قیاس اور اجتہاد کا اختلاف

جہاں نص صریح نہ ہو، وہاں آئمہ نے قیاس، استحسان، مصالح مرسلہ جیسے اصول استعمال کیے۔ یہ اصول خود بھی اجتہادی ہیں، اس لیے نتائج مختلف نکلے۔

۶. صحابہ و تابعین کے اقوال کا اختلاف

آئمہ نے صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ کے اقوال کو بھی ماخذ کے طور پر استعمال کیا۔ جب صحابہؓ میں خود کسی مسئلے میں دو آراء موجود ہوں تو آئمہ کا اختلاف فطری ہے۔

دوسرا حصہ: کیا شریعت اس اختلاف کی گنجائش دیتی ہے؟

قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کی اجازت ملتی ہے۔

فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ (النحل: 43) 
یعنی جو نہیں جانتے وہ اہلِ علم سے پوچھیں — اس سے تقلید اور اجتہادی اختلاف کی اصولی بنیاد ملتی ہے۔
اس کے علاوہ حدیثِ معاذؓ جسے امام ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کیا، اس میں نبی ﷺ نے قیاس و اجتہاد کی اجازت دی جب نص موجود نہ ہو — یہ اجتہادی اختلاف کی بہت بڑی شرعی دلیل ہے۔

علمائے امت کا اجماعی موقف

  1. امام ابن قدامہؒ نے روضة الناظر میں لکھا ہے کہ اجتہادی مسائل میں اختلاف جائز ہے اور یہ امت کے لیے وسعت کا باعث ہے۔
  2. علامہ ابن تیمیہؒ نے مجموع الفتاوی میں لکھا:
    اجتہادی اختلاف میں نہ کوئی گمراہ ہے اور نہ فاسق — بشرطیکہ اس نے اپنی استطاعت کے مطابق دلیل پر عمل کیا ہو۔
  3. علامہ ابن عابدین شامیؒ نے رد المحتار کے مقدمے میں لکھا کہ آئمہ اربعہ کے مذاہب سب حق ہیں اور ان میں سے کسی ایک کی پیروی جائز ہے۔

کیا آئمہ ایک دوسرے کو گمراہ سمجھتے تھے؟

یہ ایک انتہائی اہم سوال ہے جس کا جواب تاریخ بہت واضح طور پر دیتی ہے۔

آئمہ کا ایک دوسرے کے بارے میں احترام

امام شافعیؒ، امام ابوحنیفہؒ کے شاگرد امام محمدؒ کے شاگرد تھے۔ انہوں نے فرمایا:
"ما رأيت أعقل من محمد بن الحسن” میں نے محمد بن حسن (شیبانی) سے زیادہ عقلمند کوئی نہیں دیکھا۔

امام احمد بن حنبلؒ نے کہا:
"ما أحد أحق بالاتباع من أبي حنيفة
في الرأي”

امام مالکؒ اور امام ابوحنیفہؒ کی ملاقات ہوئی اور انہوں نے ایک دوسرے کی علمی عظمت کا اعتراف کیا۔

ان تمام نقولات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ آئمہ کے درمیان علمی اختلاف تھا، نہ کہ عداوت یا تکفیر۔

اختلاف کی دو اقسام کا فرق

علمائے نے اختلاف کی دو قسمیں بیان کی ہیں:

اختلافِ تنوع — جہاں دونوں راستے درست ہوں، جیسے نماز میں ہاتھ باندھنے کی جگہ کا اختلاف۔ یہ رحمت ہے۔ (جیسے کسی مسئلہ (مثلا موزوں پر مسح میں اختلاف) میں شرعی دلیل کے ساتھ فقہاء کا اختلاف)
اختلافِ تضاد — جہاں دو چیزیں بیک وقت درست نہ ہو سکیں، جیسے عقیدے کے بنیادی مسائل۔ یہاں اختلاف قابلِ قبول نہیں۔ (جیسے رسالت یا ختم نبوت میں اختلاف یا کسی اور ایسی چیز میں اختلاف جس پر صریح دلائل موجود ہیں۔)

فقہی مذاہب کا اختلاف اختلافِ تنوع کے زمرے میں آتا ہے۔

صحیح امام یا مسلک کون سا ہے اور کون سا غلط ہے؟

اس سوال کا سیدھا جواب یہ ہے کہ اجتہادی مسائل میں "صحیح اور غلط” کا مطلق فیصلہ ممکن نہیں۔
امام نوویؒ نے المجموع میں لکھا کہ جب مجتہد نے پوری کوشش سے دلیل پر عمل کیا تو وہ معذور ہے، چاہے نتیجہ درست نہ بھی ہو۔

نبی ﷺ نے فرمایا:"إذا حكم الحاكم فاجتهد ثم أصاب فله أجران، وإذا حكم فاجتهد ثم أخطأ فله أجر” (صحیح بخاری و مسلم)
یعنی مجتہد اگر درست نکلے تو دو اجر، اگر غلط بھی ہو جائے تو ایک اجر — کیونکہ نیت اور کوشش خالص تھی۔

اس سے معلوم ہوا کہ اجتہادی غلطی گناہ نہیں، اجر کا باعث ہے۔

کون سا امام اور اس کا مسلک زیادہ صحیح ہے؟

مختلف مسائل میں مختلف آئمہ کی رائے زیادہ قوی ہو سکتی ہے۔ کوئی ایک مذہب ہر مسئلے میں "بالکل خطائے اجتہادی” سے بھی مبرا نہیں ہوسکتا۔
البتہ چاروں مذاہب اہلِ سنت والجماعت کے دائرے میں ہیں اور ان میں سے کسی کو بھی گمراہ کہنا علمی اور شرعی اعتبار سے غلط ہے۔

جہاں تک بات ہے کہ زیادہ صحیح کون سا ہے تو اس میں دو رائے نہیں کہ تقریبًا دو تہائی سے زیادہ مسلمان حنفی مسلک کی اتباع کرتے ہیں۔ یہی وہ مسلک ہے جو سب سے زیادہ مدون، منضبط اور قدیم بھی ہے اور دیگر مذاہب کے اکابر آئمۃ و مجتہدین نے امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی قرآن و حدیث کو سمجھنے اور اسے بیان کرنے کو سراہا ہے۔

عام مسلمان کو کیا کرنا چاہیے؟ — تقلید کا مسئلہ

اس سوال کا سیدھا جواب یہ ہے کہ جو کوئی قرآن و حدیث کو اس قدر گہرائی سے نہیں سمجھ سکتا کہ جس سے وہ خود اپنی زندگی میں پیش آنے والے تمام معاملات کے بارے میں قرآن و حدیث کی تعلیمات کو جان لے تو اس کے لئے تقلید لازم ہے۔

تقلید کیا ہے؟

تقلید کا مطلب ہے کسی امام کے مذہب کو دلیل جانے بغیر اس پر عمل کرنا — یہ اہلِ علم کے نزدیک عام مسلمانوں کے لیے جائز بلکہ ضروری ہے۔

قرآن کا حکم ہے: فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ — جو نہ جانے وہ جاننے والے سے پوچھے۔
عقلی طور پر بھی یہ ضروری ہے کیونکہ ہم دنیوی معاملات میں بھی فقط اس فن کے سرسری علم کے بجائے اس کے ماہرین یعنی جنہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ اس میں صرف کرکے اسے سیکھا سمجھا ہوتا ہے ان پر اعتماد کرتے ہیں تو ہمیں شریعت کے معاملے میں بھِی اللہ اور اس کے رسول کی تعلیمات و احکامات کے مطابق علماء سے پوچھ کر انہیں کی بات پر اعتماد کرنا چاہیئے۔ یہی محفوظ اور زیادہ صحیح راستہ ہے۔

کیا کسی ایک مذہب کی پابندی ضروری ہے؟

جمہور احناف و شوافع کا موقف یہ ہے کہ عام مسلمان کو ایک مذہب کی پابندی کرنی چاہیے تاکہ وہ تتبعِ رخص (آسانیاں چننے) میں نہ پڑے۔
دارالعلوم دیوبند کے فتاویٰ میں آتا ہے کہ عام مسلمان کے لیے کسی معتبر مذہب کی تقلید ضروری ہے اور چاروں مذاہب میں سے کوئی بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔
جامعہ بنوری ٹاؤن کے فتاویٰ میں بھی یہی موقف ملتا ہے کہ پاکستان و ہند میں حنفی مذہب رائج ہے اور اس کی پابندی افضل ہے۔

میں کس امام کی پیروی کروں؟ — عملی رہنمائی

  1. پہلی بات یہ ہے کہ اگر آپ کسی علاقے میں رہتے ہیں جہاں کوئی خاص مذہب رائج ہے تو اس کی پیروی کریں — یہ آسان اور محفوظ راستہ ہے۔ اس سے آپ کو تمام معاملات میں سہولت رہے گی۔
  2. دوسری بات یہ کہ اگر آپ نے کسی عالم سے تعلیم حاصل کی ہے تو اس کے مذہب کی پیروی کریں۔ کیونکہ یقینًا آپ کی تعلیمات اسی مسلک کے مطابق ہوگی اور آپ ان کو بآسانی سمجھ سکیں گے۔
  3. تیسری بات یہ کہ ہر مسئلے میں اپنی مرضی سے سب سے آسان رائے نہ چنیں — یہ "تلفیق” ہے جو ناجائز صورت اختیار کر سکتی ہے۔
  4. چوتھی بات یہ کہ اگر کوئی مسئلہ ایسا پیش آجائے جس میں دوسرے مسلک میں رخصت ہو اور آپ کے مسلک میں نہ ہو تو بجائے بار بار مسلک بدل کر آسانی تلاش کرنے کے اپنے مسلک پر ہی کاربند رہیں، شریعت کو آسانی کے لئے آڑ نہ بنائیں۔

بالغہ عورت کا نکاح ولی کے بغیر: قرآن و حدیث سے نکاح اور ولایت کا حکم

اسلام کی تاریخ میں ایک ایسا سوال جو عام مسلمانوں کے ذہنوں میں بار بار اٹھتا ہے وہ یہ ہے کہ جب قرآن کریم اور احادیثِ نبویہ ﷺ تمام مسلمانوں کے لیے یکساں ہیں، تو پھر امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ کے درمیان مسائل میں اختلاف کیوں پایا جاتا ہے؟ کیا ان میں سے کوئی غلط ہے؟ کیا یہ اختلاف اسلام کے لیے نقصان دہ ہے؟ اور ایک عام مسلمان کو کیا کرنا چاہیے؟

اختلافِ آئمہ — ایک علمی و تحقیقی جائزہ

کسی مسلمان مرد و عورت کا اسلام کو چھوڑ دینا یعنی مرتد ہو جانا یہ ایک ایسا گناہ ہے کہ اگر بغیر توبہ کیے وہ مر گیا تو وہ سیدھا جہنم میں جائے گا۔ پھر چاہے اسلام چھوڑنے کی وجہ اس کا ذہنی خلفشار (ذہنی دباو اور پریشانی) ہو یا پھر حالات کی خرابی یا کوئی اور ایسی وجوہات ہوں جس کی بنا پر اس نے اسلام کو چھوڑ دیا ہو۔ اس میں کسی طرح کا کوئی عذر عنداللہ قابل قبول نہیں ہے۔ اس پر قران کریم کی واضح ایات احادیث اور اجماع امت یعنی ساری امت کے اکابرین کا اجماع موجود ہے تفصیلات ۔کے لیے مکمل جواب پڑھیں۔

کیا اسلام کو چھوڑ دینے والے (مرتد) کا جہنمی ہونا طےہے؟

جنگی حالات میں ایمان کی کمزوری | اسلامی رہنمائی

جنگی حالات میں ایمان کی کمزوری محسوس ہونا

شراب پینے والی روم میٹ کے ساتھ رہنا: شرعی حکم کیا ایسے گھر میں رہنا جہاں روم میٹ نجی طور پر شراب پیتی ہو، عبادت، رزق اور روحانیت پر اثر ڈالتا ہے؟ مکمل فقہی رہنمائی۔

شراب پینے والے کے ساتھ رہنا

حجاب اور شدید ذہنی دباؤ: کیا شریعت میں وقتی رخصت کی گنجائش ہے؟

لوگوں کے طعنوں اور معاشرتی دباو کی وجہ سے حجاب میں نرمی برتنا

Get In Touch

Newsletter

Subscription Form

Latest Posts

بالغہ عورت کا نکاح ولی کے بغیر: قرآن و حدیث سے نکاح اور ولایت کا حکم
فروری 18, 2026
Read More »
اسلام کی تاریخ میں ایک ایسا سوال جو عام مسلمانوں کے ذہنوں میں بار بار اٹھتا ہے وہ یہ ہے کہ جب قرآن کریم اور احادیثِ نبویہ ﷺ تمام مسلمانوں کے لیے یکساں ہیں، تو پھر امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ کے درمیان مسائل میں اختلاف کیوں پایا جاتا ہے؟ کیا ان میں سے کوئی غلط ہے؟ کیا یہ اختلاف اسلام کے لیے نقصان دہ ہے؟ اور ایک عام مسلمان کو کیا کرنا چاہیے؟
اختلافِ آئمہ — ایک علمی و تحقیقی جائزہ
فروری 18, 2026
Read More »
کسی مسلمان مرد و عورت کا اسلام کو چھوڑ دینا یعنی مرتد ہو جانا یہ ایک ایسا گناہ ہے کہ اگر بغیر توبہ کیے وہ مر گیا تو وہ سیدھا جہنم میں جائے گا۔ پھر چاہے اسلام چھوڑنے کی وجہ اس کا ذہنی خلفشار (ذہنی دباو اور پریشانی) ہو یا پھر حالات کی خرابی یا کوئی اور ایسی وجوہات ہوں جس کی بنا پر اس نے اسلام کو چھوڑ دیا ہو۔ اس میں کسی طرح کا کوئی عذر عنداللہ قابل قبول نہیں ہے۔ اس پر قران کریم کی واضح ایات احادیث اور اجماع امت یعنی ساری امت کے اکابرین کا اجماع موجود ہے تفصیلات ۔کے لیے مکمل جواب پڑھیں۔
کیا اسلام کو چھوڑ دینے والے (مرتد) کا جہنمی ہونا طےہے؟
جنوری 30, 2026
Read More »

Quick Menu

  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

Follow Us

Facebook Instagram Whatsapp Envelope Youtube

contact

  • deenalfurqan@gmail.com

© Copyright, deenalfarqan.com. All rights reserved.