سوال
میں ایک لڑکے سے آن لائن ملی ہوں۔ ہم دونوں مالی طور پر غیر مستحکم ہیں اور مختلف ممالک میں رہتے ہیں۔ میں اس رشتے کو حلال طریقے سے نکاح کے ذریعے قائم کرنا چاہتی ہوں۔ میں نے آن لائن نکاح اور ولی کے مسئلے پر تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ عام طور پر ولی باپ ہوتا ہے، اور اگر باپ فوت ہوچکا ہو، غیر مسلم ہو، موجود نہ ہو یا بلا وجہ نکاح سے انکار کرے تو ولایت دیگر قریبی مرد رشتہ داروں کو منتقل ہوتی ہے، اور آخر میں امام کو ولی بنایا جا سکتا ہے۔
میرے والد زندہ ہیں۔ وہ بعض اوقات میرے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں، لیکن اگر میں ان کی بات کے خلاف جاؤں تو دھمکی دیتے ہیں۔ وہ نماز ادا نہیں کرتے، اگرچہ دعا کرتے ہیں۔ کبھی کبھار شراب بھی پیتے ہیں، دھوکہ دہی کرتے ہیں، اسٹاک ایکسچینج میں پیسے لگاتے اور کھوتے ہیں (مجھے یقین نہیں کہ یہ جوا کے حکم میں آتا ہے یا نہیں)، دنیاوی معاملات کو دین پر ترجیح دیتے ہیں، میری جلد شادی کے خواہاں نہیں ہیں، کنٹرول کرنے والے ہیں اور مالی و جذباتی طور پر زیادتی کرتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ میں بعد میں اپنی مرضی یا ان کے معیار کے مطابق شادی کروں۔
میرے دادا یا بھائی موجود نہیں ہیں، صرف چچا ہیں۔ ان میں سے ایک نماز پڑھتا ہے، لیکن وہ میرے والد کے قریب ہے اور ان سے ڈرتا ہے، اور غالب گمان ہے کہ اگر میں اس سے رابطہ کروں تو وہ فوراً میرے والد کو اطلاع دے دے گا اور ولی بننے سے انکار کر دے گا کیونکہ میرے والد زندہ ہیں۔
میرا سوال یہ ہے:
- کیا میں اپنے خاندان کو شامل کیے بغیر کسی امام کو اپنا ولی مقرر کر کے نکاح کر سکتی ہوں؟
- فقہِ حنفی کے مطابق بالغ عاقل عورت کے لیے ولی کے بغیر نکاح کی گنجائش کا ذکر ملتا ہے، لیکن دیگر مذاہب (مالکی، شافعی، حنبلی) کے نزدیک نکاح کی صحت کے بارے میں کیا حکم ہے؟
- اگر میں فقہِ حنفی کے مطابق نکاح کر لوں، مثلاً امام کو بطور ولی مقرر کر کے، تو کیا دیگر مذاہب کے نزدیک میرا نکاح ناجائز یا باطل شمار ہوگا؟
میں اس مسئلے پر مختلف ویب سائٹس سے رہنمائی لینے کی کوشش کر رہی ہوں اور چاہتی ہوں کہ شرعی اعتبار سے میرا نکاح درست اور معتبر ہو۔
جواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم
سوال نمبر ۱: کیا بالغہ عاقلہ عورت بغیر ولی کے نکاح کر سکتی ہے؟
فقہِ حنفی کا موقف
فقہِ حنفی کے مطابق بالغہ عاقلہ آزاد عورت اپنا نکاح خود کر سکتی ہے، یا کسی کو وکیل بنا سکتی ہے۔ ولی کی اجازت شرطِ صحت نہیں، بلکہ شرطِ کمال ہے۔
قرآنِ کریم سے دلائل
دلیل نمبر ۱ — سورۃ البقرہ: ۲۳۲
{فَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ اَنْ يَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ}
ترجمہ: "پس انہیں مت روکو کہ وہ اپنے شوہروں سے نکاح کریں جب وہ آپس میں دستور کے مطابق رضامند ہو جائیں۔”
احناف اس آیت سے استدلال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نکاح کی نسبت عورتوں کی طرف کی ہے یعنی {أَن يَنكِحْنَ} — "کہ وہ نکاح کریں”۔ اگر عورت کو نکاح کا اختیار ہی نہ ہوتا تو اس نسبت کا کوئی معنی نہ ہوتا۔ نیز ولیوں کو روکنے سے منع کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ عورت کا اپنے نکاح میں حق ہے۔
امام جصاصؒ نے اس آیت سے احناف کا مذہب ثابت کیا ہے:
«دَلَّتْ هَذِهِ الآيَةُ عَلَى أَنَّ لِلْمَرْأَةِ فِي نِكَاحِهَا حَقًّا مَعْتَبَرًا» (أحكام القرآن للجصاص، ج۱، ص۴۵۷)
دلیل نمبر ۲ — سورۃ البقرہ: ۲۳۰
{فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَآ اَنْ يَّتَرَاجَعَآ}
اس آیت میں رجوع کی نسبت دونوں (مرد و عورت) کی طرف کی گئی ہے، جو عورت کی اہلیتِ عقد پر دلالت کرتی ہے۔
دلیل نمبر ۳ — سورۃ النساء: ۱۹
{وَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ}
"اور انہیں مت روکو۔” یہ آیت بھی ولیوں کو عورتوں کے نکاح سے ناجائز طریقے سے روکنے سے منع کرتی ہے۔
احادیثِ مبارکہ سے دلائل (بالغہ کے نکاح کے انعقاد پر)
حدیث نمبر ۱
«الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْذَنُ فِي نَفْسِهَا وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا» (صحیح مسلم، کتاب النکاح، حدیث: ۱۴۲۱)
ترجمہ: "شوہر دیدہ عورت اپنے نفس کی اپنے ولی سے زیادہ حق دار ہے، اور کنواری سے اس کے نفس کے بارے میں اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی اس کی اجازت ہے۔”
احناف کا استدلال: اس حدیث میں "أَحَقُّ بِنَفْسِهَا” یعنی "اپنے نفس کی زیادہ حق دار” کے الفاظ صراحت کرتے ہیں کہ بالغہ عورت اپنے نکاح میں ولی سے بھی زیادہ اختیار رکھتی ہے۔ اگر ولی کے بغیر نکاح ہوتا ہی نہ تو یہ فقرہ بے معنی ہو جاتا۔
حدیث نمبر۲
«لَا تُنْكَحُ الْأَيِّمُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ، وَلَا تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ» (صحیح البخاری، کتاب النکاح، حدیث: ۵۱۳۶؛ صحیح مسلم، حدیث: ۱۴۱۹)
ترجمہ: "بیوہ کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے اور کنواری کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے۔”
احناف کا استدلال: اس حدیث میں نکاح کے انعقاد کو عورت کی رضا پر موقوف کیا گیا ہے، ولی کی رضا پر نہیں۔ جو دلیل ہے کہ عورت کی رضا بنیادی شرط ہے، ولی کی اجازت شرطِ صحت نہیں۔
حدیث نمبر ۳ — واقعۂ خنساء بنت خِذام رضی اللہ عنہا
«أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ ثَيِّبٌ فَكَرِهَتْ ذَلِكَ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ ﷺ فَرَدَّ نِكَاحَهَا» (صحیح البخاری)
ترجمہ: "خنساء بنت خِذام کو ان کے باپ نے بغیر رضا کے نکاح کر دیا، وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئیں تو آپ ﷺ نے اس نکاح کو رد کر دیا۔”
احناف کا استدلال: نبی کریم ﷺ نے اس نکاح کو اس لیے رد کیا کہ عورت کی رضا نہیں تھی — یعنی اصل اہمیت عورت کی رضا کو دی گئی، نہ کہ محض ولی کی موجودگی کو۔
سوال نمبر ۲: آئمہ ثلاثہ (شافعی، مالکی، حنبلی) کی دلیل اور احناف کا جواب
آئمہ ثلاثہ کی دلیل
آئمہ ثلاثہ ان احادیث سے استدلال کرتے ہیں:
دلیل نمبر ۱:
«لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ» (سنن أبي داود، حدیث: ۲۰۸۵؛ سنن الترمذی، حدیث: ۱۱۰۱)
"ولی کے بغیر نکاح نہیں۔”
دلیل نمبر ۲:
«أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ بَاطِلٌ بَاطِلٌ» (سنن أبي داود، حدیث: ۲۰۸۳؛ سنن الترمذی، حدیث: ۱۱۰۲)
"جو عورت بھی ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرے، اس کا نکاح باطل ہے، باطل ہے، باطل ہے۔”
احناف کا ان احادیث کا جواب
احناف ان احادیث کو رد نہیں کرتے، بلکہ ان کی تأویل درج ذیل وجوہ پر کرتے ہیں:
وجہ نمبر ۱ — محدثین کا اعتراض: ان روایات پر محدثین کرام نے سند کے اعتبار سے کلام کیا ہے۔ «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ» کی روایت کے بارے میں علامہ عینیؒ لکھتے ہیں کہ یہ اس درجے کی نہیں کہ امام ابو حنیفہؒ کے قرآنی دلائل کے مقابلے میں پیش کی جا سکے۔
(عمدة القاري شرح صحيح البخاري، ج۲۰، ص۱۱۱، دار إحياء التراث)
وجہ نمبر ۲ — نفیِ کمال پر محمول: علامہ ابن ہمامؒ لکھتے ہیں کہ «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ» میں نفی کمال کی ہے، نفی انعقاد کی نہیں — یعنی ولی کے بغیر نکاح کامل نہیں، لیکن منعقد ہو جاتا ہے۔
(فتح القدير، ج۳، ص۲۵۷، دار الفکر)
وجہ نمبر ۳ — نابالغہ یا غیر عاقلہ پر محمول: احناف فرماتے ہیں کہ «أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ بِغَيْرِ وَلِيٍّ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ» والی حدیث نابالغہ یا غیر عاقلہ پر محمول ہے، کیونکہ ان کا نکاح واقعی ولی کے بغیر نہیں ہو سکتا۔
وجہ نمبر ۴ — قرآن کی نص سے تعارض: جب یہ احادیث قرآن کریم کی نص {فَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ أَن يَنكِحْنَ} سے متعارض ہوں تو قرآن مقدم ہوگا۔ امام جصاصؒ نے یہ موقف تفصیل سے بیان کیا ہے:
(أحكام القرآن للجصاص، ج۱، ص۴۵۸)
وجہ نمبر ۵ — صحابہ کرامؓ کا عمل: سیدنا علی، سیدنا ابن مسعود، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے منقول ہے کہ انہوں نے بالغہ عاقلہ عورت کا نکاح بغیر ولی کے جائز قرار دیا۔
📎 اس موضوع پر مزید تفصیل کے لیے ہمارا یہ مضمون ملاحظہ فرمائیں: "کیا بغیر ولی کے نکاح ہوسکتا ہے؟” — جو ہماری ویب سائٹ پر پہلے شائع ہو چکا ہے۔ (براہِ کرم ویب سائٹ کے مضامین کے سیکشن میں "ولی” یا "نکاح بلا ولی” سرچ کریں۔)
سوال نمبر ۳: دیگر مذاہب کے مطابق کیا گیا عمل — منعقد ہوگا یا باطل؟
یہ اصولِ فقہ کا ایک نہایت اہم مسئلہ ہے۔
اصولی قاعدہ
فقہائے کرام کا مسلمہ اصول ہے:
جو عمل کسی ایک معتبر فقہی مذہب کے مطابق درست ہو، دوسرے مذاہب اسے کالعدم اور باطل قرار نہیں دیتے، بلکہ اختلافِ اجتہادی مانتے ہیں۔
چاروں مذاہب کی معتبر کتب سے دلائل
① فقہِ حنفی:
علامہ ابن عابدین شامیؒ لکھتے ہیں:
«وَالْخِلَافُ فِي الْفُرُوعِ لَا يُنْكَرُ، وَكُلُّ مُجْتَهِدٍ مُصِيبٌ عِنْدَ بَعْضِهِمْ أَوْ مَعْذُورٌ عِنْدَ الْكُلِّ» (رد المحتار، ج۱، ص۷۵، دار الفکر)
ترجمہ: "فروعی مسائل میں اختلاف پر نکیر نہیں کی جاتی، ہر مجتہد یا تو مصیب ہے یا معذور ہے۔”
② فقہِ شافعی:
علامہ ابن حجر ہیتمیؒ (شافعی) صراحت سے لکھتے ہیں:
«مَنْ تَزَوَّجَ بِغَيْرِ وَلِيٍّ تَقْلِيدًا لِمَذْهَبِ أَبِي حَنِيفَةَ لَا يُنْقَضُ نِكَاحُهُ» (الفتاوی الفقهیة الكبرى، ج۴، ص۲۵۴، المكتبة الإسلامية)
ترجمہ: "جس نے امام ابو حنیفہؒ کی تقلید میں بغیر ولی کے نکاح کیا، اس کا نکاح فسخ نہیں کیا جائے گا۔”
یعنی شافعی فقیہ بھی تسلیم کرتا ہے کہ حنفی مذہب کے مطابق کیا گیا نکاح نافذ ہے۔
③ فقہِ مالکی:
امام قرافیؒ (مالکی) اپنے مشہور اصولی قاعدے میں لکھتے ہیں:
«إِنَّ الْخِلَافَ بَيْنَ الْمُجْتَهِدِينَ رَحْمَةٌ لِلْأُمَّةِ، وَمَنْ عَمِلَ بِمَذْهَبٍ مُعْتَبَرٍ صَحَّ عَمَلُهُ وَلَمْ يُنْقَضْ» (الفروق للقرافي، ج۲، ص۱۰۸، عالم الكتب)
ترجمہ: "مجتہدین کا اختلاف امت کے لیے رحمت ہے، اور جس نے کسی معتبر مذہب پر عمل کیا، اس کا عمل صحیح ہے اور فسخ نہیں کیا جائے گا۔”
④ فقہِ حنبلی:
علامہ ابن قدامہؒ (حنبلی) لکھتے ہیں:
«وَمَنْ تَزَوَّجَ عَلَى وَجْهٍ اخْتَلَفَ الْعُلَمَاءُ فِي صِحَّتِهِ وَفَسَادِهِ لَمْ يَجِبْ فَسْخُهُ بِقَوْلِ مَنْ يَرَى فَسَادَهُ» (المغني، ج۹، ص۳۴۵، مكتبة القاهرة)
ترجمہ: "جس نے ایسے طریقے سے نکاح کیا جس کی صحت و فساد میں علماء کا اختلاف ہو، تو جو اسے فاسد سمجھتے ہیں ان کے قول کی بنا پر اس نکاح کا فسخ واجب نہیں ہوگا۔”
نتیجہ اور اہم گزارش
تین سوالات کا خلاصہ
سوال ۱ کے جواب میں: فقہِ حنفی کے مطابق بالغہ عاقلہ کا نکاح بغیر ولی کے بھی منعقد ہو جاتا ہے، البتہ کفو کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
سوال ۲ کے جواب میں: آئمہ ثلاثہ کے نزدیک ولی شرطِ صحت ہے، لیکن ان کا یہ اختلاف اجتہادی ہے۔
سوال ۳ کے جواب میں: دیگر مذاہب حنفی مذہب پر عمل کیے گئے نکاح کو مطلقاً باطل اور کالعدم نہیں کہتے، بلکہ خود شافعی فقہاء نے صراحت کی ہے کہ ایسا نکاح فسخ نہیں ہوگا۔
خاص گزارش
آپ کو اس بات کی فکر نہیں کرنی چاہیے کہ دیگر آئمہ کیا فرماتے ہیں، کیونکہ تمام فقہائے مجتہدین حق پر ہیں — ہر ایک نے قرآن و سنت سے اپنے اجتہاد کے مطابق مسائل اخذ کیے ہیں۔ اسی لیے علامہ شامیؒ نے لکھا کہ ہر مجتہد یا مصیب ہے یا معذور۔
جب آپ نے فقہِ حنفی پر اعتماد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے تو پھر اسی مذہب کے فتاویٰ اور اصولوں پر کاربند رہیں۔ تقلید کا اصل فائدہ یہی ہے کہ آپ ہر مسئلے میں مختلف مذاہب کے درمیان الجھنے سے محفوظ رہیں اور ایک منظم فقہی نظام کے تحت اپنی دینی زندگی گزاریں۔
یہ اہم اصول سمجھنے کے لیے کہ ایک مذہب پر چلنا کیوں ضروری ہے، ہماری ویب سائٹ پر شائع شدہ مضمون ضرور پڑھیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب